اسرائیل کے بارے میں بیان پر واشنگٹن کی لبنانی فوج کے کمانڈر کے ساتھ ملاقاتیں منسوخ

ایک لبنانی سیکیورٹی اہل کار نے کہا کہ منسوخی 'حیران کن اور صدمے کی صورت تھی' جس کے باعث جنرل رودولف ہیكل نے دورہ منسوخ کر دیا.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ نے لبنان کی فوج کے کمانڈر، جنرل رودولف ہیكل کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والی طے شدہ ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ یہ بات روئٹرز نیوز ایجنسی نے لبنانی اہل کاروں کے حوالے سے بتائی۔ یہ اقدام اتوار کے روز جنرل ہیکل کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان پر اعتراض کے باعث کیا گیا جو اسرائیل کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے حوالے سے تھا۔

ایک لبنانی سیکیورٹی اہل کار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ منسوخی 'حیران کن اور صدمے کی صورت تھی' جس کے باعث جنرل رودولف ہیكل نے دورہ منسوخ کر دیا. ہیكل کل منگل کو واشنگٹن پہنچنے والے تھے تاکہ فوجی امداد اور سرحدی سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ملاقاتیں کریں۔

واشنگٹن لبنان کی فوج کا ایک اہم حامی ہے اور گزشتہ بیس سالوں کے دوران اس نے تین ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی ہے۔ یہ امداد ایک ایسی پالیسی کے تحت دی گئی جو طویل عرصے سے ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے زیر اثر ملک میں ریاستی اداروں کی حمایت کرتی ہے۔

لبنانی فوج نے اتوار کے روز بیان میں کہا "دشمن اسرائیل نے اپنی خلاف ورزیوں کے ذریعے لبنانی خود مختاری کی پامالی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سے لبنان میں استحکام متزلزل ہو رہا ہے اور جنوب میں فوج کی تعیناتی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے"۔

بیان میں فوج نے "اقوام متحدہ کی عارضی امن فورس یونیفل کے گشتی دستے کو ہدف بنانے" کی بھی مذمت کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ "دوستانہ ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ صورت حال فوری اقدام کی متقاضی ہے کیونکہ یہ سنگین کشیدگی کا باعث بن رہی ہے"۔

اسرائیلی فوج لبنان کے اندر پانچ مقامات پر قابض ہے اور جنوب میں فضائی حملے کرتی رہتی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بناتی ہے۔

اسرائیل اور لبنان ایک سال قبل جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچے تھے جس کے تحت حزب اللہ کے پاس جنوب میں کوئی ہتھیار باقی نہیں رہیں گے اور اسرائیلی فورسز کو لبنان سے مکمل طور پر واپس جانا ہو گا۔

امریکی اور فرانسیسی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کے تحت، لبنانی فوج کو لازم ہے کہ وہ "تمام غیر مجاز ہتھیار ضبط کرے"، خاص طور پر دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقے سے، جو اسرائیل کے قریب ترین ہے۔

اسرائیل حزب اللہ پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ دوبارہ ہتھیار اکٹھا کر رہا ہے۔ دوسری جانب لبنانی حکومت اسرائیل پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے ... وہ نہ تو واپس ہو رہا ہے اور نہ فضائی حملے روک رہا ہے۔

امریکی ریپبلکن پارٹی کی سینیٹر جونی ارنسٹ نے کہا کہ وہ "لبنانی فوج کے موقف سے مایوس ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا "یہ ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، میں نے اگست میں فوج کے کمانڈر سے بات کی تھی کہ اسرائیل نے لبنان کو حزب اللہ سے چھٹکارا پانے کا حقیقی موقع فراہم کیا تھا"۔ ارنسٹ کے مطابق "اس موقع سے فائدہ اٹھانے اور حزب اللہ کے ہتھیار ختم کرنے کے بجائے، فوج کے کمانڈر نے اسرائیل کو بدنام کرتے ہوئے ذمے دار ٹھہرایا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں