وہ لمحہ جب برطانیہ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے قریب تھا
برطانوی جنگی حکومت جرمنی کے ساتھ امن مذاکرات کی وجہ سے تقسیم کا شکار ہو گئی
یکم ستمبر 1939 کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے جرمنی نے اچانک پولینڈ کی زمین پر حملہ شروع کیا، جس سے یورپ میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔ اس حملے کے دوران ایڈولف ہٹلر نے میونخ کانفرنس میں دی گئی اپنی سابقہ وعدوں کی خلاف ورزی کی، جن میں یورپ میں جرمن توسیعی کارروائیوں کو روکنے کا وعدہ شامل تھا۔
پولینڈ میں مداخلت کے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے 3 ستمبر 1939 کو جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، اور یورپ میں ایک ایسا فوجی تصادم شروع ہوا جو جلد ہی عالمی جنگ میں تبدیل ہو گیا جب جاپان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی اس میں شامل ہوئے۔
فرانسیسی محاذ کا زوال
ونستون چرچل کے برطانیہ میں وزیر اعظم بننے کے بعد 10 مئی 1940 کو جرمنی نے ایک وسیع پیمانے پر حملے کا آغاز کیا، جسے "بلیتزکرگ" (Blitzkrieg) کہا جاتا ہے، اس کا ہدف فرانس، بیلجیئم اور ہالینڈ تھے۔بہت کم عرصے میں فرنچ فرنٹ پر تیزی سے انھیار کا سامنا ہوا، جس کی وجہ سے فرانسیسی اور برطانوی فوجیوں کو ڈنکرک (Dunkirk) کی جانب پیچھے ہٹنا پڑا۔
جرمنوں کی پیش رفت جاری رہنے ،فرانسیسی فوج کے انھیار اور پیرس کے جرمن قبضے کے قریب آنے کے ساتھ، برطانیہ کی جنگی حکومت، جس کی قیادت ونستون چرچل کر رہے تھے،اس میں خدشہ بڑھ گیا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور ہٹلر فرانس پر قبضے کے بعد برطانیہ پر حملہ کر سکتا ہے۔
حکومت میں تقسیم
اس صورتحال کے پیش نظر برطانیہ کی جنگی حکومت جو ایک قومی اتحاد کی شکل میں تھی، 24 سے 28 مئی 1940 کے درمیان تقسیم کا شکار ہو گئی، جس نے وزرا کے درمیان بحران پیدا کیا اور برطانیہ کے مستقبل اور جرمنی کے خلاف جنگ میں اس کے کردار کو خطرے میں ڈال دیا۔جبکہ ونستون چرچل ہٹلر کے مقابلے اور مزاحمت پر زور دے رہے تھے، وزیر خارجہ ایڈورڈ وُڈ، معروف لورڈ ہالیفیکس نے ہٹلر کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے اور برطانیہ کو جنگ سے باہر نکالنے کی تجویز دی تاکہ فرانس جیسے انجام سے بچا جا سکے۔
چرچل کی فتح
اپنے دیگر وزرا کے سامنے بیانات میں وزیر خارجہ لورڈ ہالیفیکس نے بتایا کہ فرانس کے تسلیم ہونے کے بعد برطانیہ پر جرمن حملے کا خطرہ یقینی ہے۔اسی دوران ہالیفیکس نے جرمنوں کے ساتھ ایک منصفانہ اور غیر ذلت آمیز امن تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس کے علاوہ وزیر خارجہ نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ اطالوی ڈکٹیٹر بینیتو موسولینی جو اب تک جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا، اس کے ساتھ رابطے قائم کیے جائیں تاکہ جرمنوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے راستہ بنایا جا سکے اور امن معاہدہ حاصل کیا جا سکے۔
اس کے برعکس ونستون چرچل نے لورڈ ہالیفیکس کے نظریے کی سخت مخالفت کی اور برطانیہ کی حفاظت کے لیے جنگ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہٹلر کسی ذلت آمیز امن معاہدے کو نافذ نہ کر سکے جو کسی طرح کے سرنڈر کے مترادف ہو۔
اس دوران ونستون چرچل کے موقف کو ان کے اتحادیوں، لیبر پارٹی کے کلیمنٹ اٹلی اور آرتھر گرینوڈ نے بھی مکمل حمایت فراہم کی، جنہوں نے بھی ہٹلر کے ساتھ مذاکرات کے نظریے کی مخالفت کی۔
26مئی 1940 کو لورڈ ہالیفیکس اور ان کے حلیفوں نے چرچل پر دباؤ ڈالا کہ وہ اطالوی ثالثی کے نظریے کو قبول کریں۔ دباؤ کے بڑھنے پر چرچل نے کہا کہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے۔
اپنے وزرا کی حمایت کھونے کے خوف سے چرچل نے 28 مئی 1940 کو 25 وزرا کے ساتھ ایک وسیع وزارتی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں چرچل نے ایک مؤثر تقریر کی، جس میں انہوں نے جنگ جاری رکھنے اور برطانیہ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا۔
چرچل کی تقریر نے توازن بدل دیا اور اجلاس کے بعد وزرا کی اکثریت نے ہٹلر کے ساتھ امن کی مخالفت میں ان کا موقف اختیار کر لیا۔
اسی دوران لورڈ ہالیفیکس نے سابق وزیر اعظم نیویل چیمبرلین کی حمایت کھو دی، جو امن کے نظریے کے سخت حامی نہیں تھے۔22 دسمبر 1940 کو اینتھونی ایڈن کو لورڈ ہالیفیکس کی جگہ وزیر خارجہ مقرر کیا گیا اور ہالیفیکس امریکہ میں برطانیہ کے سفیر بن گئے۔
دوسری جانب چرچل کے زیر صدارت وزارتی اجلاس نے اختلافات کو ختم کرنے میں مدد دی اور ڈنکرک سے برطانیہ کی افواج کے انخلا اور انگلینڈ کی جنگ کی تیاری کے لیے راہ ہموار کی۔
-
برقع پرپابندی کےمطالبےکامنفرد طریقہ: خاتون سینیٹرنےپارلیمنٹ میں احتجاجاً برقع ہی پہن لیا
مسلم سینیٹرز کی جانب سے نسل پرستی کے الزامات اور تنقید
بين الاقوامى -
بابنوسہ میں شدید لڑائی جاری … سوڈانی فوج نے ریپڈ سپورٹ فورسز کا حملہ پسپا کر دیا
سوڈانی فوج نے الابیض شہر کے مغرب میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی 20 سے زیادہ فوجی گاڑیاں ...
بين الاقوامى -
جان ایف کینیڈی کی پوتی کا ٹرمینل کینسر کی تشخیص کا انکشاف، کزن آر ایف کے جونیئر پر تنقید
جان ایف کینیڈی (جے ایف کے) کی پوتی نے ہفتے کے روز ٹرمینل کینسر کی تشخیص کا انکشاف ...
بين الاقوامى