"سپر انٹیلی جنس انسانیت" کےلیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے: مائیکروسافٹ کے شامی ماہر کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت پر عالمی مسابقت تیزی سے بڑھ رہی ہے مائیکروسافٹ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی قیادت کرنے والے شامی نژاد ماہر مصطفیٰ سلیمان نے ایک سنجیدہ انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپر انٹیلی جنس پہلے ہی کئی علمی نوعیت کے کاموں میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانا شروع کر چکی ہے اور یہ سب کچھ ایسی رفتار سے ہو رہا ہے جو انسانی صلاحیتوں سے کہیں آگے ہے حالانکہ یہ ٹیکنالوجی تاحال آزمائشی مرحلے میں ہے۔

مصطفیٰ سلیمان مائیکروسافٹ کے ان عہدوں میں سے ایک پر فائز ہیں جو نہایت حساس اور اثر انگیز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا اس وقت ایک ایسے تکنیکی اور اخلاقی موڑ پر کھڑی ہے جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آئندہ نسل کی مصنوعی ذہانت پر غلبے کے لیے شدید دوڑ میں مصروف ہیں۔

سپر انٹیلی جنس کیا ہے؟

مصطفیٰ سلیمان کے مطابق سپر انٹیلی جنس محض ایک زیادہ ترقی یافتہ ماڈل نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو کسی بھی کام کو سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اجتماعی طور پر تمام انسانوں سے بہتر انداز میں اسے انجام دے سکتا ہے۔

ان کے بقول اصل خطرہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی نظام خود اپنے اہداف طے کرنے لگے اپنا کوڈ خود بہتر بنائے اور انسانوں سے مکمل طور پر آزاد ہو کر فیصلے کرے۔

مصطفیٰ سلیمان واضح کرتے ہیں کہ اس مرحلے پر بات ترقی کی نہیں رہتی بلکہ یہ ایک وجودی خطرہ بن جاتا ہے جس کے لیے ایک ایسی سرخ لکیر مقرر کرنا ناگزیر ہے جسے کسی صورت عبور نہ کیا جائے۔

طب کو آزمائش کا میدان کیوں بنایا گیا؟

بلومبرگ ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ کسی بھی بڑی نئی پیش رفت سے پہلے سپر انٹیلی جنس کے خطرات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مصطفیٰ سلیمان کا خیال ہے کہ اس مقصد کے لیے طبی شعبہ سب سے موزوں ماحول ہے۔

ان کے مطابق طب ایسا شعبہ ہے جو گہرے اثرات رکھتا ہے۔ اس کے نتائج قابل پیمائش ہوتے ہیں اور اس میں فوائد اور خطرات دونوں کو نہایت درست انداز میں جانچا جا سکتا ہے۔

اسی لیے مصطفیٰ سلیمان خود ایسی اعلیٰ درجے کی ذہین طبی ٹیکنالوجیز کی تیاری پر کام کر رہے ہیں جو جانیں بچانے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کی حدود کو سمجھنے میں مدد دیں تاکہ اسے دیگر شعبوں میں متعارف کرانے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال ممکن ہو سکے۔

مشینوں کی برتری محض وقت کی بات

مصطفیٰ سلیمان کی وارننگ حال تک محدود نہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ آئندہ 20 سے 30 برسوں میں اور شاید اس سے بھی پہلے مشینیں بیشتر شعبوں میں انسانوں پر سبقت حاصل کر لیں گی جس کی وجہ سپر انٹیلی جنس کی تیز رفتار ترقی اور اس کا وسیع پیمانے پر استعمال ہو گا۔

یہ منظرنامہ کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا ہم ایک ایسی تکنیکی انقلاب کی دہلیز پر کھڑے ہیں جو طب اور سائنس کے ذریعے انسانیت کو بچا لے گا یا پھر ہم اس لمحے کے قریب پہنچ رہے ہیں جب فیصلے صلاحیت اور شاید مستقبل بھی مشینوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں