تیونس کا مشہور نیلا اور سفید گاؤں ریکارڈ بارشوں کے بعد خطرے سے دوچار

ایک زمانے میں گاؤں میں فرانسیسی فلسفی مائیکل فوکلٹ اور مصنف آندرے جیڈ کی رہائش تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بلدیہ قرطاج کے مقابل ایک پہاڑی پر واقع تیونس کے مشہور نیلے اور سفید گاؤں سیدی بو سعید کو ریکارڈ بارشوں کے بعد اب مٹی کے تودے گرنے کے خطرے کا سامنا ہے۔ بارشوں سے اس کی ڈھلوانوں کے بعض حصوں میں پانی داخل ہو گیا۔

گذشتہ ہفتے تیونس میں 70 سال سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ بارش ہوئی۔ طوفان سے کم از کم پانچ افراد کی جان چلی گئی جبکہ کچھ بدستور لاپتہ ہیں۔

تیونس کے شمال میں یہ گاؤں جو اپنے گلابی بوگین ویلا (کاغذی پھول) اور مرصّع چوبی دروازوں کے لیے مشہور ہے، اس کا راستہ گرے ہوئے درختوں، پتھروں اور مٹی کی ایک دبیز تہہ نے کاٹ دیا۔ رہائشیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پہاڑیوں کے بعض حصے ٹوٹ چکے ہیں۔

تیونس میں شہری دفاع کے علاقائی ڈائریکٹر منیر ریابی نے حال ہی میں اے ایف پی کو بتایا، "صورتِ حال نازک ہے اور فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔

بعض گھروں کو فوری خطرے کا سامنا ہے۔"

حکام نے بھاری گاڑیوں کے گاؤں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے اور کچھ کاروباری اور دیگر اداروں جیسے النجمۃ الزہرۃ میوزیم کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

- خوفزدہ

پچاس سالہ مایا جنہوں نے اپنا پورا نام نہیں بتایا، نے کہا کہ وہ طوفان کے بعد اپنا ایک صدی پرانا خاندانی ولا چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔

انہوں نے یاد کیا، "سب کچھ بہت تیزی سے ہوا، میں اپنی والدہ کے ساتھ تھی اور اچانک انتہائی پرتشدد طوفان برس پڑا۔ میں نے مٹی کا ایک ڈھیر گھر کی طرف بڑھتے دیکھا، پھر بجلی منقطع ہوگئی۔ میں واقعی خوفزدہ تھی۔"

ان کے اندلسی طرز کے ولا کو کافی نقصان پہنچا۔

وہاں موجود ایک کارکن سید بن فرحت نے بتایا کہ پہاڑی سے کیچڑ نیچے آ جانے سے باورچی خانے کی دیوار کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔

"اگر ایک اور طوفان آ گیا تو تباہی ہو گی،" انہوں نے کہا۔

دکانوں کے مالکان نے کہا کہ بھاری گاڑیوں پر پابندی ان کے کاروبار کے لیے ایک اور دھچکا ہے کیونکہ وہ عموماً ٹریفک کے لیے سیاحتی بسوں پر انحصار کرتے ہیں۔

بدھ کو جب صدر قیس سعید نے گاؤں کا دورہ کیا تو دکاندار کہہ رہے تھے: "ہم کام کرنا چاہتے ہیں۔"

ایک تاجر محمد فیدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کے بعد "مزید کوئی گاہک نہیں آیا۔ ہم نے دکان بند کر دی ہے" اور مزید بتایا کہ یہ دکانیں تقریباً 200 خاندانوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔

- انتہائی غیر مستحکم -

اپنے مشہور فنِ تعمیر کے علاوہ گاؤں کی تاریخی اور روحانی اہمیت بھی ہے۔

گاؤں کا نام 12ویں صدی کے ایک صوفی بزرگ ابو سعید الباجی کے نام پر رکھا گیا تھا جنہوں نے وہاں ایک مذہبی مرکز قائم کیا تھا۔ ان کا مزار اب بھی پہاڑی کے اوپر موجود ہے۔

ایک زمانے میں فرانسیسی فلسفی مائیکل فوکو اور مصنف آندرے جیڈ کا مسکن یہ گاؤں تیونس کے قانونِ تحفظ کے تحت محفوظ ہے اور عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل کرنے کے لیے اس پر یونیسکو کا فیصلہ زیرِ التوا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سیدی ابو سعید کو محفوظ رکھنے کے لیے نئے ترقیاتی کاموں کو محدود کرنا، زیادہ مضبوط دیواروں کی تعمیر اور پانی جمع ہونے سے روکنے کے لیے نکاسی آب کو بہتر بنانے سے مدد مل سکتی ہے۔

ایک ماہرِ ارضیات چوکری یاچ نے تیونس کے ریڈیو موزایک ایف ایم سے بات کرتے گذشتہ ہفتے کی طرح مزید طوفانوں سے خبردار کیا اور کہا، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پہاڑی کی حفاظت بہت زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

انہوں نے سمندری کٹاؤ اور شہروں کی طرف منتقلی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین عشروں میں تعمیرات میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

فی الحال حکام نے کسی حفاظتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے جس سے گھروں اور دکانوں کے مالکان پریشان ہیں کیونکہ موسم کی صورتِ حال غیر متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں