بیروت اور مضافات میں اسرائیل کی شدید ترین بم باری ، سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی

لبنانی دارالحکومت کی سڑکوں پر بیک وقت ہونے والی بم باری کے نتیجے میں شدید خوف و ہراس اور افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے آج بدھ کے روز لبنانی دارالحکومت بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ سمیت جنوبی لبنان اور بقاع میں شدید فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے ابتدائی اندازوں کے مطابق درجنوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ ان حملوں کے بعد بیروت کے آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی فوج نے اسے 2 مارچ کو جنگ میں حزب اللہ کی شمولیت کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی مہم قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ محض دس منٹ کے اندر بیک وقت کی جانے والی اس کارروائی میں حزب اللہ کے 100 فوجی صدر دفاتر اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاتز کے مطابق یہ "اچانک حملہ" ستمبر 2024 میں ہونے والے پیجر دھماکوں کے بعد حزب اللہ پر اب تک کی سب سے کاری ضرب ہے۔ دوسری جانب لبنانی سکیورٹی ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ بم باری حالیہ جنگ کی شدید ترین لہر ہے جس نے ہسپتالوں کو زخمیوں سے بھر دیا ہے۔ لبنانی ریڈ کراس نے صرف بیروت میں 80 ہلاکتوں اور 200 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

ان سنگین حالات کے دوران لبنانی فوج نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ابھی جنوبی علاقوں اور اپنے دیہات کی طرف واپسی میں جلدی نہ کریں، کیونکہ اسرائیلی بم باری اور پیش قدمی جاری ہے اور غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد سے ان کی جانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان، بقاع اور ضاحیہ کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ جب تک جنگ بندی کا باقاعدہ اور حتمی اعلان نہیں ہو جاتا، وہ متاثرہ علاقوں کا رخ نہ کریں۔ ان انتباہی پیغامات کے باوجود بڑی شاہ راہوں پر اپنے گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کی گاڑیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی حملوں کی دو ہفتوں کے لیے معطلی کی حمایت تو کرتے ہیں، لیکن اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں جاری فوجی آپریشنز پر نہیں ہوتا۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال کسی ایسی باضابطہ جنگ بندی کی اطلاع نہیں ملی جس میں لبنان بھی شامل ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں