میراڈونا کا طبی عملہ عدالتی کٹہرے میں، 25 سال تک قید کی سزا کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا کی وفات کے حالات و واقعات سے متعلق ایک نئے مقدمے کی سماعت آج منگل کو شروع ہو رہی ہے۔ یہ نئی سماعت ایک جج کے ملوث ہونے کے اسکینڈل اور گذشتہ ٹرائل کے ختم ہونے کے ایک سال بعد ہو رہی ہے۔

تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے میراڈونا نومبر سنہ 2020ء میں 60 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ ایک نجی گھر میں دماغ کی سرجری کے بعد صحت یابی کے عمل سے گذر رہے تھے۔ سرجری کے دو ہفتے بعد ان کی موت دل کی دھڑکن بند ہونے اور پھیپھڑوں کے شدید بحران (پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے) کے باعث ہوئی تھی۔

استغاثہ نے بیونس آئرس کے شمالی مضافاتی علاقے ٹیگری میں صحت یابی کے دوران ان کا علاج کرنے والی سات رکنی طبی ٹیم پر فردِ جرم عائد کی ہے۔ ان پر ایسے حالات میں علاج کرنے کا الزام ہے جنہیں "انتہائی مجرمانہ غفلت" قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ٹرائل اپنے آغاز کے ڈھائی ماہ بعد اور میراڈونا کے بچوں سمیت دیگر گواہوں کے جذباتی بیانات کے چند گھنٹوں بعد ہی روک دیا گیا تھا۔ مئی سنہ 2025ء میں اس ٹرائل کو اس وقت کالعدم قرار دے دیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ کیس کی نگرانی کرنے والی ایک جج اس معاملے پر بننے والی دستاویزی فلم میں شامل تھیں۔ اسے اخلاقی ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزی تصور کیا گیا۔

جج جولیٹ میکنٹوش اپنے طرزِ عمل کی وجہ سے فوجداری کارروائی کا سامنا کرتے ہوئے دستبردار ہو گئی تھیں۔ اب نئے ٹرائل میں تقریباً 120 گواہوں کو سنا جائے گا تاکہ دوبارہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا میراڈونا کی طبی ٹیم ان کی موت کی ذمہ دار تھی۔

ان سات طبی ماہرین بشمول ڈاکٹروں، ماہرین نفسیات اور نرسوں پر "ممکنہ اقدام قتل" کا الزام ہے، یعنی ایسا علاج جاری رکھنا جس کے بارے میں علم ہو کہ وہ موت کا باعث بن سکتا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو آٹھ سے 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب دفاعی ٹیم کا موقف ہے کہ میراڈونا کی موت قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوئی کیونکہ وہ ایک ہنگامہ خیز زندگی گذار چکے تھے اور منشیات و الکحل کی لت کا شکار تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں