"جنگ بندی اور گھروں کا انہدام"... اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کے دو مطالبے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جہاں ایک طرف لبنانیوں کی نظریں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے دوسرے دور پر لگی ہیں جو آج جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا، وہیں دوسری طرف اسرائیلی افواج نے لبنان کے جنوبی دیہات میں گھروں کی مسماری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں میس الجبل کے مغربی قصبے میں واقع محلہ المفيلحہ میں گھروں کو آگ لگا دی۔ گذشتہ روز قصبہ الطیری پر اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں ایک خاتون صحافی ہلاک اور دوسری زخمی ہو گئی۔ اس پر لبنانی صدر جوزف عون نے آج ایک بیان میں صحافی آمال خلیل کی ہلاکت اور زینب فرج کے زخمی ہونے پر اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کو "جان بوجھ کر نشانہ بنانے" کی شدید مذمت کی ہے۔

اسی دوران ایک اعلیٰ لبنانی سرکاری ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ آج ہونے والا اجلاس گذشتہ ہفتے کے اجلاس کا تسلسل ہے۔ ایجنسی اناضولو کے مطابق انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ لبنانی فریق جنگ بندی کی مدت میں توسیع اور جنوب کے مقبوضہ دیہات میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں گھروں کی مسماری روکنے کا مطالبہ کرے گا۔

اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکہ میں لبنان کی سفیر ندی حمادہ معوض اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یحیئيل لیٹر شرکت کریں گے جبکہ گزشتہ دور کی طرح لبنان میں امریکی سفیر میشال عیسیٰ بھی موجود ہوں گے۔ علاوہ ازیں اس بار اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہوکابی بھی اس میں شامل ہوں گے۔ دوسری جانب فرانس پریس کے مطابق حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے، جنہوں نے پہلے حکومت کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر تنقید کی تھی، کہا ہے کہ "اگر اسرائیل مکمل طور پر پابندی کرے تو ہم جنگ بندی کا تسلسل چاہتے ہیں"۔

دونوں ممالک نے جو باضابطہ طور پر 1948 سے حالتِ جنگ میں ہیں، جنگ کے خاتمے کی کوشش میں 14 اپریل کو واشنگٹن میں مذاکرات کا دور منعقد کیا تھا جو 1993 کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا دور تھا۔ ان مذاکرات کے دو دن بعد امریکہ نے اس جنگ میں دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس میں لبنان میں 2400 سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

تاہم جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیاں کیں، لیکن ان واقعات کے باوجود مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے شائع کردہ جنگ بندی کے معاہدے کے متن میں یہ درج تھا کہ اسرائیل اپنے خلاف ہونے والی یا منصوبہ بند کارروائیوں کے مقابلے میں "حقِ دفاع" محفوظ رکھتا ہے۔

حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے حکومت پر رعایتیں دینے اور مذاکرات سے قبل سیاسی و عوامی اتفاقِ رائے حاصل نہ کرنے کا الزام لگایا۔ یاد رہے کہ حزب اللہ نے حکومت کی جانب سے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کے باوجود گذشتہ 2 مارچ کو لبنان کا محاذ کھول دیا تھا۔ تاہم لبنانی حکام نے بارہا دہرایا ہے کہ مذاکرات، جنگ اور امن کا فیصلہ صرف حکومت کے پاس ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کا انتخاب ملک کو مزید المیوں سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں