ٹرمپ کی جانب سے فوجی آپریشن کی معطلی امن کو فروغ دے گی : شہباز شریف

"روئٹرز" نے پاکستانی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ ختم کرنے کے لیے مفاہمت کی یاد داشت کے قریب پہنچ گئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے ذریعے تنازع کے پُر امن حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کے حوالے سے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ صورت حال ایک دیرپا معاہدے کی طرف لے جائے گی جو خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہو گا۔

شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "بہادری" اور آبنائے ہرمز میں "پروجیکٹ فریڈم" کی بروقت معطلی کے اعلان پر اظہارِ تشکر کیا۔ انھون نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی درخواست پر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ رد عمل استحکام کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔
روئٹرز نیوز ایجنسی نے ایک پاکستانی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمت کی یاد داشت تک پہنچنے کے قریب ہیں۔

پاکستانی ذریعے کا یہ بیان امریکی ویب سائٹ "axios" کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک صفحے کی مفاہمت کی یاد داشت کے حوالے سے معاہدے کے قریب پہنچ چکی ہے، اس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کے لیے ایک دائرہ کار وضع کرنا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے جاری "پروجیکٹ فریڈم" کو مختصر مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا اور اشارہ دیا کہ یہ فیصلہ سعودی عرب، پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا "ہم نے باہمی طور پر اتفاق کیا ہے کہ جب کہ محاصرہ مکمل طور پر نافذ العمل رہے گا، پروجیکٹ فریڈم کو ایک مختصر وقت کے لیے معطل کر دیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا معاہدہ مکمل اور اس پر دستخط ہو سکتے ہیں یا نہیں۔"

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے گذشتہ روز منگل کو کہا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے ہونے والی آمدورفت پر کنٹرول کی اجازت نہیں دی جا سکتی.

ایران نے بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرونز، میزائلوں اور تیز رفتار کشتیوں کی تعیناتی کی دھمکی دے کر عملی طور پر آبنائے کو بند کر دیا تھا۔ جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر لیا اور وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنا شروع کر دی۔

اس سے قبل امریکی فوج نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس نے کئی ایرانی چھوٹی کشتیوں کے علاوہ کروز میزائل اور ڈرونز تباہ کر دیے ہیں۔
تاہم چار ہفتے قبل ہونے والی نازک فائر بندی اب بھی برقرار ہے۔

اس جنگ کے پھیلاؤ کے نتیجے میں لبنان اور دیگر عرب ممالک میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کی وجہ سے عالمی منڈیاں بھی عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہیں۔

وائٹ ہاؤس اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی فوج کی صلاحیتیں کم ہو گئی ہیں اور تہران عوامی سطح پر دھمکیوں کے باوجود امن چاہتا ہے۔

انہوں نے "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا "ایرانی نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔"
یہ تنازع نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر دباؤ کا باعث بھی بن رہا ہے، کیونکہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ووٹرز کے طرز زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا مقصد ان خطرات سے چھٹکارا پانا ہے جنہیں انہوں نے ایران کی جانب سے "فوری خطرات" قرار دیا۔ انہوں نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے ساتھ ساتھ حماس تنظیم اور لبنانی گروپ حزب اللہ کی حمایت کا بھی ذکر کیا۔

ایران نے ان حملوں کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ این پی ٹی (جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے) کا فریق ہونے کے ناطے اسے افزودگی سمیت پُر امن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کا حق حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں