ریپڈ سپورٹ فورسز کے ساتھ امن ہے نہ کوئی مذاکرات ہونگے: سوڈانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوڈان کی عبوری خودمختار کونسل کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ کہ نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز کے ساتھ "نہ کوئی مذاکرات ہوں گے اور نہ امن"۔

عبد الفتاح البرہان نے خرطوم بحری کے علاقے الدروشاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایسا حل مسلط نہیں کر سکتا جو سوڈانیوں کے لیے قابل قبول نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دارالحکومت خرطوم محفوظ اور پرسکون ہے اور رہے گا۔

دہائیوں تک لڑنے کی تیاری

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو نے بدھ کی شام کہا تھا کہ ان کی افواج فوج کے ساتھ جنگ میں دہائیوں تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ حمدان دقلو نے خبردار کیا کہ ان کے جنگجو اب بھی دارالحکومت خرطوم کے مضافات میں موجود ہیں۔

یاد رہے خرطوم پر فوج نے مارچ 2025 میں دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ انہوں نے ایک نامعلوم مقام پر اپنی افواج کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ جنگ جاری رہے، لیکن اگر وہ اسے 40 سال تک جاری رکھنا چاہیں تو یہ ان کی جڑیں اکھاڑنے تک جاری رہے گی۔

حمدان دقلو نے مزید کہا کہ ریپڈ سپورٹ کے عناصر دارالحکومت سے نہیں نکلے۔ یہ عناصر اب بھی ام درمان کے مضافات میں، وسطی خرطوم کے سامنے دریائے نیل کے دوسرے کنارے پر تعینات ہیں۔

جنگ کے چار سال

خرطوم میں فوج کے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد نسبتا سکون آگیا تھا ۔ تاہم دو ہفتوں کے دوران یہاں پھر کئی حملے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت خرطوم میں حالیہ مہینوں کے دوران زندگی بتدریج بحال ہوئی ہے اور 18 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد واپس آئے ہیں۔ شہر کے وسیع حصوں میں بجلی اور بنیادی سہولیات کی مسلسل کمی کے باوجود ایئرپورٹ سے اندرون ملک پروازیں بحال ہو گئی ہیں۔

واضح رہے چوتھے سال میں داخل ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ جنگ نے وہ صورتحال پیدا کر دی ہے جسے اقوام متحدہ نے دنیا کا سب سے بڑا نقل مکانی اور بھوک کا بحران قرار دیا ہے۔ تنازع ختم کرنے کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔ امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر پر مشتمل کواڈ گروپ نے بھی تنازع ختم کرنے کی کوششیں کیں جو اس لیے کامیاب نہیں ہوسکیں کیونکہ دونوں متحارب فریق انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر متفق نہیں ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں