اسد حکومت کی مخالفین کو بھوک سے جھکانے کی پالیسی
شامی باغیوں پر بھی شہریوں میں امدادی خوراک کی تقسیم میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام
شامی صدر بشارالاسد کی حکومت باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھوک مسلط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس نے ان علاقوں تک خوراک کی فراہمی میں کمی کردی ہے۔
اس بات کا انکشاف امریکی جریدے ''فارن پالیسی'' میں جمعہ کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں کیا گیا ہے۔اس مضمون میں اقوام متحدہ کی دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسد حکومت نے باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں خوراک کی سپلائی منقطع کر دی ہے اور وہ ان علاقوں میں زندگی برقرار رکھنے کے لیے ایک قابل اعتماد ذریعہ بن چکی ہے۔
بشارالاسد حکومت کی اس پالیسی کے پیش نظر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو ضرورت مند شامی عوام کے لیے مزید خوراک مہیا کرنا پڑی ہے۔باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے بھوک کا شکار ہونے والے شامی بڑی تعداد میں حکومت کے کنٹرول والے علاقوں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔اس لیے ان علاقوں میں خوراک کی تقسیم میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے بعد دوماہ کے دوران خوراک کی تقسیم میں کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے بعد سے قریباً چار لاکھ پندرہ ہزار افراد تک خوراک پہنچائی گئی ہے۔
عالمی خوراک پروگرام نے مارچ میں حاجت مند اکتالیس لاکھ شامیوں کو خوراک مہیا کی تھی جبکہ فروری میں سینتیس لاکھ لوگوں تک خوراک پہنچائی گئی تھی لیکن خارجہ پالیسی میگزین کا کہنا ہے کہ بہت سے شامی اب بھی خوراک سے محروم ہیں اور کم سے کم ترانوے لاکھ شامیوں کو خوراک کی فوری امداد کی ضرورت ہے۔
شامی حزب اختلاف نے اسد حکومت پر باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں خوراک کو پہنچنے سے روکنے کا الزام عاید کیا ہے لیکن اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق اسد رجیم تنہا وہاں خوراک کی عدم تقسیم کی ذمے دار نہیں ہے بلکہ گذشتہ سال جون سے فروری کے دوران باغیوں کے درمیان باہمی لڑائیوں کے نتیجے میں ان کے زیر قبضہ علاقوں میں عالمی اداروں کی جانب سے خوراک کی تقسیم میں کمی واقعی ہوئی تھی۔
مشرق وسطیٰ کے علاقے میں ڈبلیو ایف پی کی ترجمان عبیر عتفا کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے ہی عوام تک امدادی خوراک کو پہنچنے سے روکا ہے۔انھوں نے بتایا کہ باغیوں کے زیر قبضہ دیر الزور اور الرقہ کے شمال مشرقی علاقوں میں ڈبلیو ایف پی کو خوراک کی تقسیم سے روکا گیا ہے۔
درایں اثناء اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی الاخضر الابراہیمی نے شامی تنازعے کے دونوں فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی جانب لوٹ آئیں۔انھوں نے وسطی شہر حمص میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
-
شام نے بھوک سے نڈھال محصورین یرموک کیمپ کی امداد پھر روک لی
'یرموک کیمپ' اکیسویں صدی کے انسانی المیے کی بدترین مثال قرار
مشرق وسطی -
اقوام متحدہ کا شام میں قحط سالی کا انتباہ
بارشیں نہ ہوئیں تو لاکھوں شامیوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوجائیں گے
مشرق وسطی -
شام میں باغیوں کے درمیان باہمی لڑائی میں 700 ہلاکتیں
وسطی شہر حمص میں شامی فوج کی گولہ باری سے 20 سے زیادہ افراد مارے گئے
مشرق وسطی -
شام میں القاعدہ اور باغی جنگجوگروپوں کے درمیان شدید لڑائی
ریاست اسلامی عراق وشام نے حلب اور ادلب میں 24 باغیوں کو ہلاک کردیا
مشرق وسطی -
شام میں ائیر بیس پر قبضے کی لڑائِی، 19 باغی ہلاک
باغیوں نے دیر الزور ائیر بیس سے ملحق گاوں پر قبضہ کر لیا
مشرق وسطی -
شام میں باغیوں سے شدید لڑائی میں عراقی ملیشیا کا کمانڈر ہلاک
خانہ جنگی کا شکار ملک میں تشدد کے مختلف واقعات میں 44 افراد کی ہلاکت
بين الاقوامى