سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کے سرکاری ادارے’نزاھہ‘ نے پچھلے ماہ (اگست) میں سرکاری اداروں میں کرپشن کے الزامات کے تحت چھ سرکاری اداورں کے 139 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔ ان ملزمان میں فوج داری اور انتظامی مقدمات کا سامنا کرنے والے ملزمان بھی شامل ہیں۔
’نزاھہ‘ کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اگست کے دوران وزارت داخلہ، دفاع، صحت، تعلیم، بلدیات، ہاؤسنگ سوسائٹی اور زکواۃ وانکم ٹیکس کے محکموں سے تعلق رکھنے والے 380 ملزمان سے تفتیش کی گئی۔تفتیش کے نتیجے 139 ملزمان کو رشوت ، دفتری طاقت کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔
"نزاھہ" نے وضاحت کی کہ اس کی ٹیموں نے اگست کے مہینے کے دوران تقریباً 2,950 مانیٹرنگ چھاپے مارے۔ اس کے علاوہ "نزاھہ" نے وضاحت کی کہ وہ کسی بھی شخص کی نگرانی اور کنٹرول کرنے کے لیے سرکاری اداروں اور پرائیویٹ اداروں کی نگرانی کرتا رہے گا۔ عوامی فنڈز کے غلط استعمال کی روک تھام یا کسی بھی نوعیت کی بدعنوانی اور ریاستی وسائل کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔
-
سعودی علاقہ الباحہ, جس کے مناظر سیاحوں کا دل موہ لیتے ہیں
سعودی عرب کے علاقے الباحہ کو قدرت نے بے پناہ رعنائیاں دی ہے۔ اسی وجہ سے سیاح اس کی ...
مشرق وسطی -
رونالڈوکی سعودی عرب میں زندگی ،بحیرۂ احمراورالعلا جیسے پرکشش مقامات کےبارے میں گفتگو
سعودی ماحول سے موافقت پیدا کرنا مشکل نہ تھا: فٹ بال سٹار
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں خاندانی مشاورت کی حکمت عملی کے ساتویں سیشن کا آغاز
سعودی عرب میں انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے وزیر انجینیر احمد الراجحی نے فیملی ...
مشرق وسطی