مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فورسز نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش کو شام میں امریکی فورسز نے اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فورسز کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس حملے میں داعش کے کئی مقامات پر موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔
امریکی فورسز نے شام میں اپنے اہداف کو یہ نشانہ ایسے وقت میں بنایا ہے جب اسرائیلی فورسز فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے خلاف غزہ میں جنگ کو دوسرے سال میں داخل کر چکی ہیں اور حماس کے حامی گروپوں کو غزہ سے باہر بھی جگہ جگہ ٹارگیٹ کر رہی ہیں۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق داعش کے خلاف امریکی فورسز کا یہ حملہ گیارہ اکتوبر کو صبح سویرے ممکن بنایا گیا۔ امریکی بیان کے مطابق حملے کا مقصد داعش کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔ تاکہ وہ امریکہ کے خلاف منظم منصوبوں کے تحت کارروائیاں نہ کر سکے۔ نہ ہی امریکی اتحادیوں، شراکت داروں اور پورے خطے میں عام شہریوں کو نشانہ بنا سکے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران امریکہ اور اس کی اتحادی ریاستوں نے درجنوں بار شام میں اس طرح کے حملے کیے ہیں۔ خود امریکی فورسز عراق اور شام دونوں جنگجووں کے خلاف حملے کر چکی ہیں۔ شام میں امریکی فورسز نے دو الگ الگ حملوں کے نتیجے میں مبینہ 37 افراد ہلاک کو کر دیا تھا۔ یہ پچھلے ماہ ستمبر کا واقعہ ہے۔
-
السیستانی اسرائیلی اہداف میں شامل ہوسکتے ہیں، امریکہ کا رد عمل
ایک اسرائیلی چینل کی جانب سے عراق میں شیعہ کونسل کےرہ نما علی السیستانی کی تصویر ...
بين الاقوامى -
حزب اللہ کے نقصانات کے بعد شام میں ایرانی ملیشیاؤں کا مستقبل کیا ہے؟
اسرائیل کی فوج کی لبنان میں دو ہفتے سے جاری جنگ میں شدت کے دوران ایران نواز گروپ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے بیروت میں ہلاکت خیز بمباری کے لیے امریکی ساختہ بموں کا استعمال کیا: رپورٹ
اسرائیل نے لبنان میں اپنی جنگ شروع کرنے کے ساتھ ہی لبنانی دارالحکومت بیروت میں ...
مشرق وسطی