اسرائیل کے وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو غزہ میں اسرائیلی کی کارروائی کے دوران حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار مارے گئے ہیں۔ یحییٰ السنوار کو سات اکتوبر 2023 کے حماس کے اسرائیل پر حملے کے ماسٹر مائنڈز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل کے غزہ میں آپریشنز کے آغاز کے بعد سے وہ مطلوب ترین افراد میں سے ایک تھے جنہیں اسرائیل نے مارنے کا عزم کر رکھا تھا۔ اس کے بعد سے غزہ پر حملے کے دوران اسرائیل انہیں تلاش کرنے کی ناکام کوششیں کرتا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق غزہ پر حملہ آور اسرائیلی فوج ڈرونز، حساس جاسوسی آلات اور انسانی انٹیلی جنس کی مدد سے سنوار کو تلاش کرتی ہے لیکن اب تک ان کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔ ممکنہ طور پر وہ غزہ کی زیرِ زمین سرنگوں میں کہیں روپوش تھے۔ اسرائیل نے سنوار کو ’ختم‘ کرنے کا عہد کر رکھا تھا جبکہ وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے ان کا موازنہ ہٹلر سے کیا تھا۔
غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں یحییٰ سنوار کا نام سب سے زیادہ منظرِ عام پر آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ تبادلہ انہی کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔
یحییٰ سنوار برسوں سے غزہ کی پٹی میں حماس کے سرکردہ رہنما رہے اور وہ حماس کے عسکری ونگ کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ السنوار کو رواں سال جولائی میں حماس کے سابق سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ایران میں قتل کے بعد حماس کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔
اکسٹھ سالہ یحییٰ سنوار غزہ کے علاقے خان یونس کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1987 میں وجود میں آنے والی حماس کے ابتدائی ارکان میں شامل تھے جنہوں نے بعد ازاں گروپ کے سیکیورٹی ونگ کی قیادت کی۔
اسرائیل نے انہیں 1980 کی دہائی کے آخر میں گرفتار کیا۔ انہوں نے 12 مشتبہ ساتھیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ اسرائیل نے انہیں دو اسرائیلی فوجیوں کے قتل سمیت متعدد جرائم پر چار مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی۔
سال 2008 میں اسرائیلی ڈاکٹروں نے یحییٰ سنوار کا علاج کیا اور وہ دماغی کینسر سے سروائیو کرگئے۔ بعد ازاں 2011 میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے انہیں جیل سے رہا کر دیا۔
یحییٰ سنوار قیدیوں کے اس تبادلے کا حصہ تھے جو اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے کیا گیا تھا۔ حماس نے سرحد پار ایک کارروائی میں گیلاد شالیت کو پکڑا تھا۔
غزہ واپسی کے بعد یحییٰ سنوار نے حماس کی قیادت میں تیزی سے شہرت حاصل کی۔ انہیں 2015 میں امریکی محکمۂ خارجہ نے 'عالمی دہشت گرد' قرار دیا۔
حماس نے سات اکتوبر 2023 کو غزہ سے اسرائیل پر حملہ کر کے وہاں 1200 افراد کو ہلاک اور تقریباً 250 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اسرائیل نے حملے کے جواب میں غزہ میں فضائی و زمینی کارروائی شروع کی جس میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 42 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
-
حماس کے سربراہ سنوار کا نصر اللہ کے نام خط: حزب اللہ کا شکریہ ادا کیا
چند ہی دن پہلے سنوار نے الجزائر کے صدر کو بھی مبارک باد کا خط لکھا تھا
مشرق وسطی -
’’ ہم تباہ ہوگئے‘‘ اسرائیل نے حماس کے سینئر رہنما کا سنوار کے نام پیغام پیش کردیا
اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے ’’ ایکس‘‘ پر ایک ویڈیو کلپ میں ایک پیغام پیش کیا ...
مشرق وسطی -
یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے السنوار کو محفوظ راستہ دینے کی اسرائیلی پیش کش!
ایک اسرائیلی ذمے دار نے فلسطینی اراضی میں بقیہ تمام یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آتے ...
مشرق وسطی