عارضی جنگ بندی اور فوجی انخلا کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا: حماس رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کے ایک سینیئر رہنما نے عارضی جنگ بندی کی پیش کردہ حالیہ تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ انکار جمعرات کے روز سامنے آیا ہے ۔
حماس جس نے شروع سے یہ مؤقف اختیار کر رکھا ہے کہ مستقل جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بغیر یرغمالی رہا نہیں کیے جا سکتے نہ کسی عارضی جنگی وقفے کو قبول کیا جا سکتا ہے۔

اس کے مذکورہ رہنما طاہر النونو نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' سے گفتگو کرتے ہوئے یہی موقف دہراتے ہوئے کہا ' عارضی جنگ بندی کا مطلب ایک بار اسرائیلی فوج کو تازہ دم ہو کر جنگی یلغار کرنے کا موقع دینا ہوگا۔ اس لیے جنگ بندی صرف مستقل قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ فوج کا انخلا بھی لازمی شرط ہے۔ '

واضح رہے امریکی قیادت میں جنگ بندی کے لیے اہم کر دار ادا کرنے والے ثالث ملک ایک بار پھر سر جوڑے ہوئے ہیں تاکہ جنگ بندی ہو جائے۔ تاہم وہ ایک ماہ سے کم کے لیے جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اس تازہ ملاقات میں اسرائیلی موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا، امریکی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز کے علاوہ قطر کے وزیر اعظم شیخ بن عبدالرحمان الثانی بھی شریک ہوئے ہیں۔ یہ مذاکراتی نشست قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوئی ہے۔ امریکی حکام ایک بار پھر امید ظاہر کر رہے ہیں کہ جنگ بندی ممکن ہو جائے گی۔

لیکن ادھر حماس کے رہنما تاہر النونو نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو ابھی کوئی باقاعدہ تجاویز نہیں ملی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں