انروا : امریکی امداد رکنے کا لبنان میں سرگرمیوں پر اثر نہیں پڑے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے 'انروا' کی لبنان کے لیے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'انروا' کی امداد پر جو پابندی لگائی ہے۔ اس کے باوجود لبنان میں فلسطینیوں کے لیے 'انروا' کی امداد پر اثر نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں فلسطینیوں کے لیے امریکہ 'انروا' کو پہلے ہی امداد نہیں دے رہا تھا۔ اس لیے اس کے امداد روکنے کے اعلان سے 'انروا' کا لبنان چیپٹر یا یہاں پر پناہ لیے ہوئے فلسطینی متاثر نہیں ہوں گے۔ ڈوروتھی کلاؤس لبنان میں 'انروا' کے فیلڈ آفس میں جمع رپورٹروں سے گفتگو کر رہی تھیں۔

یاد رہے امریکہ نے 'انروا' کی امداد مارچ 2025 سے بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ اسرائیل نے :انروا' پر غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی امداد روکنے کے لیے مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔ اس پس منظر میں 'انروا' لبنان کی ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ان کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امداد پر امریکی اعلانات سے کوئی فرق نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا 'انروا' نے اپنے چار اہلکاروں کو چھٹی پر بھیجا ہے اور انتظامیہ ان کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ کہ کیا انہوں نے اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں ۔

خیال رہے 'انروا' سے وابستہ ایک ٹیچر کو پچھلے سال معطل کیا گیا تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ علاوہ ازیں ستمبر میں اسرائیلی بمباری سںے ہلاک ہونے والے ایک کمانڈر کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ 'انروا' سے وابستہ ہے۔

ڈائریکٹر 'انروا' نے کہا 'لبنان میں 'انروا' کی سرگرمیوں پر اسرائیل کے نئے قانون کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا۔

اسرائیل نے یہ قانون اکتوبر میں مغربی کنارے اور غزہ میں انروا کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پارلیمان میں منظور کیا تھا۔ تاکہ 'انروا' کو فلسطینیوں کی مدد سے مکمل طور پر روکا جا سکے۔

خیال رہے 'انروا' فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت اور رہائش کے سلسلے میں امداد فراہم کرتا ہے۔ جس کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے منگل کے روز کہا تھا کہ 'انروا' ایک امدادی ادارہ ہے۔ لیکن اسے دہشت گرد تنظیم بنانے کے لیے بہت منفی اور زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں