اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی انروا سے تعلقات منقطع کر لیے

اقوامِ متحدہ اور دیگر کا اظہارِ افسوس، امریکہ کی جانب سے حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل جمعرات کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی سے تعلقات منقطع کر دے گا جس سے غزہ میں 15 ماہ کی جنگ کے بعد اس کی اہم خدمات کی فراہمی میں تعطل پیدا ہونے کا امکان ہے۔

انروا کے اسرائیلی سرزمین پر کام کرنے پر پابندی ہو گی اور اس کے اور اسرائیلی حکام کے درمیان رابطہ بھی ممنوع ہو گا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اورین مارمورسٹین نے پابندی سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "انسانی امداد انروا کے اور انروا انسانی امداد کے برابر نہیں ہے۔ انروا حماس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متأثرہ تنظیم کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 30 جنوری سے اور اسرائیلی قانون کے مطابق اسرائیل کا انروا سے کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔"

حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا، "انروا میں حماس کے کارکنان سرایت کر گئے ہیں۔" اور مزید کہا، "اگر کوئی ریاست انروا کی اعانت کرتی ہے تو وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتی ہے۔"

مینسر نے کہا، "انروا نے حماس کے 1,200 ارکان کو ملازم رکھا ہوا ہے جن میں دہشت گرد بھی شامل ہیں جنہوں نے سات اکتوبر کو قتل عام کیا۔ یہ امداد نہیں، یہ دہشت گردی کے لیے براہِ راست مالی مدد ہے۔"

دہشت گردی کے الزامات

بدھ کے روز اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ کی جانب سے انروا پر پابندی کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ یہ قانون "انروا کی سرگرمی کو صرف اسرائیل کی خودمختار سرزمین پر روکتا ہے" لیکن "یہودیہ سامریہ اور غزہ کی پٹی کے علاقوں میں اس طرح کی سرگرمی پر پابندی نہیں لگاتا"۔ مغربی کنارے کا بائبل میں نام یہودیہ سامریہ ہے۔

تاہم پابندی کا اطلاق اسرائیل سے منسلک مشرقی یروشلم پر ہوتا ہے جہاں انروا کا مغربی کنارے میں کارروائیوں کے لیے فیلڈ ہیڈ کوارٹر ہے۔

فیصلے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک بیان میں عدالت نے کہا، یہ قانون "تباہ کن انسانی نتائج کو نظر انداز کرتے ہوئے" نافذ العمل ہو گا۔

اسرائیل کے قریبی اتحادی امریکہ کے حمایت یافتہ اس اقدام کی امدادی گروپوں اور امریکی اتحادیوں نے مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے ایلچی ڈینی ڈینن نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ انروا کو جمعرات کو اپنی کارروائیاں بند کر دینی چاہئیں اور وہ تمام احاطے خالی کر دینے چاہئیں جو مشرقی یروشلم میں اس کے زیرِ استعمال ہیں۔

'بے رحمانہ حملہ'

اس اقدام کے جواب میں اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا حکم واپس لے۔

"میں اس فیصلے پر اظہارِ افسوس اور یہ درخواست کرتا ہوں کہ اسرائیل کی حکومت یہ فیصلہ واپس لے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انروا کا کوئی "متبادل" نہیں ہے۔

ایجنسی کے سربراہ فلپ لازارینی نے انروا کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کو "مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر فلسطینیوں کی زندگیوں اور مستقبل کو نقصان پہنچانے والا ایک مسلسل حملہ" قرار دیا۔

اسرائیل نے بارہا یہ الزام لگایا ہے کہ انروا ملازمین سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں ملوث تھے۔ تاہم وہ اس الزام کا ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے اس اقدام کی حمایت کی اور الزام لگایا ہے کہ انروا اس فیصلے کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں