سعودی عرب دسمبر میں "انڈسٹریل ٹرانسفارمیشن ایگزیبیشن 2025" کی میزبانی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب دسمبر 2025 میں ریاض میں "گلوبل انڈسٹریل ٹرانسفارمیشن ایگزیبیشن" کی میزبانی کرے گا۔ یہ نمائش وزارت صنعت و معدنیات اور متعدد عالمی کمپنیوں کے اشتراک سے منعقد کی جائے گی۔ اس کا مقصد چوتھے صنعتی انقلاب میں جدید ترین اختراعات، ڈیجیٹل تبدیلی، آٹومیشن، اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور پائے دار توانائی کو پیش کرنا ہے۔ نمائش میں عالمی و مقامی کمپنیوں کی وسیع شرکت کے ساتھ ساتھ مختلف صنعتی شعبوں کے ماہرین، کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کی موجودگی بھی دیکھی جائے گی۔

یہ نمائش جدید ٹیکنالوجیوں کی دریافت کے لیے ایک اسٹریٹیجک ونڈو شمار ہوتی ہے جو کئی شعبوں پر مرکوز ہوتی ہے۔ ان میں صنعت میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں مثلا: مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، اور تھری ڈی پرنٹنگ ... ان کے علاوہ فیکٹریوں میں ڈیجیٹل تبدیلی اور "سمارٹ فیکٹری" کے تصور کو فروغ دینا جو پیداواری عمل کی کارکردگی کو بڑھانے اور اعلیٰ معیار کی سطحوں کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ نمائش صنعتی آٹومیشن اور روبوٹکس پر بھی روشنی ڈالتی ہے اور اس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے جو پیداواریت کو بہتر بنانے، آپریٹنگ لاگت کو کم کرنے کے علاوہ پائے داری اور صاف توانائی میں مدد دیتی ہے۔ یہ سعودی عرب کے اہداف کے مطابق ہے۔ مثلا : کاربن کے اخراجات میں کمی اور ماحول دوست صنعتوں کی طرف تبدیلی کو فروغ دینا۔ نمائش خاص طور پر نئی کمپنیوں کو فعال بنانے اور صنعتی اختراعی ماحول کو مضبوط بنانے پر توجہ دیتی ہے، کیوں کہ یہ پائے دار صنعتی ترقی کے لیے ایک بنیادی محرک ہے۔

یہ نمائش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت تیز صنعتی تبدیلی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کا مقصد صنعتی شعبے کو مزید مستحکم کرنا اور قومی معیشت میں اس کے کردار کو بڑھانا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب نے سلسلہ وار حکمت عملیوں کو اپنایا ہے۔ ان میں قومی صنعتی حکمت عملی ایک اہم ستون ہے، جو 2035 تک مملکت میں فیکٹریوں کی تعداد کو 36,000 سے زیادہ تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے۔

اس ضمن میں سعودی عرب جدید صنعتوں کو مقامی سطح پر ترقی دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد برقی گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز اور دقیق انجینئرنگ کے میدان میں ایک علاقائی مرکز بننا ہے۔ یہ سب عالمی کمپنیوں کو مملکت میں راغب کر کے اور ان کے ساتھ تزویراتی شراکت داری قائم کر کے کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے اور سائنس و ٹکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size