اسرائیل غزہ کے جنگ زدہ محصور کر دیے گئے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی علامت کے طور پر آنے والے 'فریڈم فلوٹیلا' کو غزہ میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ یہ بات اسرائیلی اخبار 'یروشلم پوسٹ' نے جمعرات کے روز اسرائیلی فوجی ذرائع سے رپورٹ کی ہے۔
'فریڈم فلوٹیلا' انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مختلف گروپوں اور سلیبرٹیز کی مشترکہ کوششوں سے اٹلی کی سسیلین بندرگاہ سے اتوار کے روز روانہ ہوا تھا۔ تاکہ اسرائیلی فوج کی ناکہ بندی میں گھرے ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کی مدد کے لیے آواز بن سکے۔
اس فلوٹیلا پر بین الاقوامی سطح پر موسمایاتی تبدیلیوں کے لیے کام کرنے والی خاتون رہنما گریٹا تھنبرگ کے ساتھ 11 مزید کارکن بھی شامل ہیں۔ ان میں 'گیم آف تھرونز' کے اداکار لیام کننگھم اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن و فلسطینی نژاد ریما حسن بھی ہیں۔ جنہوں نے کہا ہے کہ اب بھی غزہ کے لوگوں کی آواز نہ اٹھائی تو ہم اپنے ضمیر کو کیا جواب دیں گے۔
'فریڈم فلوٹیلا' پر سوار انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ، غزہ کے فلسطینیوں کو خوراک و امدادی سامان کی ترسیئل اور غزہ میں اسرائیلی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
'یروشلم پوسٹ' کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اس 'فریڈم فلوٹیلا' کے اٹلی سے غزہ پہنچنے سے پہلے ہی اسے روکنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مخصوص علاقوں میں اسرائیلی فوجی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ تاکہ فلوٹیلا کے مشن کو ناکام بنایا جا سکے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود جن لوگوں نے بھی اسرائیلی فوج کا حکم نہ مانا اور مشتعل کرنے کی کوشش کی انہیں اسرائیلی فوجی گرفتار کر کے واپس 'ڈی پورٹ' کر سکتے ہیں۔
یاد رہے ایک روز قبل ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے پیش کردہ قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر کے فلسطین کی صورتحال کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر دیا ہے ۔
نیز یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکہ آج بھی اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے اور پوری طرح اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ قرارداد 10 ارکان کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ اس قرارداد کی منظوری کے لیے 9 ملک کافی تھے۔ تاہم 14 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے باوجود امریکہ نے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ اس قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔
امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی قرارداد کو 5 ویں بار ویٹو کیا گیا ہے۔ جبکہ اس جنگ میں اب 54 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج قتل کر چکی ہے اور قتل و غارتگری و نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی اخبار 'یروشلم پوسٹ' کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے 'ایلیٹ کمانڈر یونٹ' کے علاوہ میزائل بردار جنگی کشتی کو 'فریڈم فلوٹیلا' روکنے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔ تاکہ کسی بھی صورت فلوٹیلا کے سوار غزہ میں داخل ہونے کی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والا یہ 'فریڈم فلوٹیلا' اگلے چند دنوں میں غزہ پہنچنے کی توقع ہے۔
-
ایک باوقار یونیورسٹی کا غزہ میں جنگ کے باعث اسرائیل سے نارمل تعلقات پر نظر ثانی کا فیصلہ
آئر لینڈ کے ممتاز اور باوقار تعلیمی ادارے ٹرینٹی کالج ڈبلن نے بدھ کے روز اعلان کیا ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی فوج کا غزہ میں خصوصی آپریشن میں دو اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں بازیاب کرانے کا دعوی
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور ...
بين الاقوامى -
تل ابیب نے غزہ میں ملیشیاؤں کو ہتھیار فراہم کیے : سابق اسرائیلی وزیر دفاع کا الزام
اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع اویگدور لیبرمین نے تل ابیب پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس ...
مشرق وسطی