جوہری ایران

وسطی ایران میں موجود مرکزی یورینیم افزودگی مرکز 'نطنز' پر متعدد حملے

سرکاری ٹی وی نے دھماکوں کی تصدیق کر دی، یورینیم افزودگی کے اہم آلات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے ملک کے وسطی علاقے میں واقع نطنز کی ایٹمی تنصیب کو متعدد بار نشانہ بنایا۔ یہ تنصیب ایران میں یورینیم کی افزودگی کا مرکزی مقام تصور کی جاتی ہے۔

جمعے کی صبح نطنز میں ایک اور زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے فوری بعد اسرائیل نے اس بات کا اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف کئی فضائی حملے کیے ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق نطنز کے مقام پر سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔

نطنز کا یہ ایٹمی کمپلیکس ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کا اہم مرکز ہے، جو قم شہر کے قریب پہاڑوں سے گھری ایک وادی میں واقع ہے۔ اس کمپلیکس میں دو اہم تنصیبات ہیں۔ ایک زیرِ زمین فیول انریچمنٹ پلانٹ اور دوسری زمین پر موجود تجرباتی فیول انریچمنٹ سہولت ہے۔

زیرِ زمین پلانٹ کو اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ وہ پچاس ہزار سنٹری فیوجز کی گنجائش رکھتا ہو۔ فی الحال یہاں تقریباً سولہ ہزار سنٹری فیوجز نصب ہیں جن میں سے تیرہ ہزار فعال حالت میں یورینیم کو پانچ فیصد خالص کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔

بین الاقوامی سفارت کاروں کے مطابق نطنز کا زیرِ زمین پلانٹ تین منزلہ گہرائی میں واقع ہے، جسے فضائی حملوں سے نقصان پہنچانا ایک مشکل کام سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب اس تنصیب کو درپیش خطرات پر دوبارہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ نطنز کی زیرِ زمین تنصیب پہلے بھی نقصانات کا شکار ہو چکی ہے، جن میں اپریل 2021ء میں ہونے والا ایک دھماکہ اور بجلی کی معطلی شامل ہیں جنہیں ایران نے اسرائیلی تخریب کاری قرار دیا تھا۔

نطنز کی زمین پر قائم دوسری تنصیب میں چند سو سنٹری فیوجز موجود ہیں، مگر یہاں ایران یورینیم کو ساٹھ فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں