سعودی عرب: سرمایہ کاری فنڈ کے اثاثے 2024 ءکے اختتام تک 4.32 ٹریلین ریال تک پہنچ گئے

سالانہ آمدن 413 ارب ریال، متنوع منصوبوں میں تیزی سے توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) نے 2024ءکے اختتام پر اپنی سالانہ مالی رپورٹ لندن اسٹاک ایکسچینج پر شائع کی ہے، جس میں شفافیت کے تقاضوں کے مطابق قرضہ جاتی آلات سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ فنڈ کی تفصیلی سالانہ رپورٹ سال کے دوسرے حصے میں جاری کی جائے گی، جس میں کارکردگی اور کامیابیوں کا جامع تجزیہ شامل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق فنڈ کے کل اثاثہ جات میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2024ء کے اختتام تک 4.321 ٹریلین ریال تک پہنچ گئے، جبکہ 2023ء میں یہ 3.664 ٹریلین ریال تھے۔

فنڈ کی آمدن 25 فیصد اضافے کے ساتھ 413 ارب ریال تک پہنچ گئی، جس میں "سافی"، "معادن"، "ایس ٹی سی"، اور "البنک الاہلی السعودی" جیسے اداروں کی کارکردگی اور "آرامکو" کی منافع کی تقسیم نے کلیدی کردار ادا کیا، ساتھ ہی بڑے منصوبوں کی شراکت میں بھی اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی چیلنجز جیسے شرح سود میں اضافہ، مہنگائی اور بعض منصوبوں کی قیمتوں میں معمولی کمی کے باوجود جس کی شرح 2 فیصد سے کم رہی فنڈ نے 26 ارب ریال کا خالص منافع حاصل کیا۔

فنڈ کے پاس 316 ارب ریال کی مستحکم نقد رقم موجود ہے، جب کہ قرضوں اور سہولتوں کا حجم 570 ارب ریال تک ہے، اور قرض کی شرح کل اثاثوں کے 13 فیصد پر برقرار ہے۔

متنوع مالیاتی ذرائع پر اعتماد، عالمی منڈیوں میں استحکام

فنڈ نے اپنی مالیاتی حکمت عملی کے تحت 2024ء میں مالیاتی ذرائع کو مزید متنوع بنایا۔ اس میں 2 ارب ڈالر مالیت کے ڈالر میں جاری کیے گئے صکوک اور 650 ملین برطانوی پاؤنڈ مالیت کے پاؤنڈ میں جاری کیے گئے پہلے بانڈز شامل ہیں۔

اسی دوران 15 ارب ڈالر کی قابل تجدید قرضہ سہولتوں کی دوبارہ مالی معاونت کی گئی، جس سے مقامی و عالمی سطح پر فنڈ پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ فنڈ سے منسلک کمپنیاں بھی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں دستیاب مالی مواقع سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

سیاحت، تفریح اور فضائی سفر میں نمایاں پیش رفت

سرمایہ کاری کے میدان میں 2024ء میں نمایاں توسیع سیاحت اور تفریح کے شعبوں میں دیکھنے میں آئی۔ بحیرہ احمر اور الدرعیہ میں "سانٹ ریجس ریڈ سی"، "نجوما" اور "ریٹز کارلٹن ریزرو" جیسے نئے ہوٹلوں اور ریزورٹس کا افتتاح ہوا۔

اسی ویژن کے تحت فنڈ نے "ادیرا" کمپنی قائم کی جو سعودی ہوٹل برانڈز کے قیام و انتظام کی ذمے دار ہوگی۔ ساتھ ہی "ارویہ کروز" کی پہلی بحری سیر کا آغاز بھی ہوا، جبکہ "طیران الریاض" نے 2025ء میں تجارتی پروازیں شروع کرنے کی تیاریوں میں پیش رفت کی ہے۔

انفرا اسٹرکچر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں نئی بنیادیں

فنڈ نے "سارک" کے نام سے ایک نئی کمپنی قائم کی جو ورکرزکے لیے مکمل رہائشی حل فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ "ایس ٹی سی" گروپ کے ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو یکجا کرنے کا معاہدہ ہوا، جس سے خطے میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کمپنی وجود میں آئے گی۔

سرمایہ کاری کے لیے شفاف پلیٹ فارم اور عالمی شراکت داریاں

سعودی مالیاتی منڈی کو مزید شفاف بنانے کے لیے فنڈ نے "تاسی 50" انڈیکس متعارف کرایا جو 50 بڑی اور سب سے زیادہ لیکویڈیٹی والی کمپنیوں کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ فنڈ نے عالمی ادارہ "بلیک راک" کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ کیا جس کے تحت کثیر اثاثہ جاتی سرمایہ کاری کا ایک نیا پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے، جو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع فراہم کرے گا۔

ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق میں پیش رفت

فنڈ نے "آلات" نامی کمپنی قائم کی جو مقامی سطح پر سیمی کنڈکٹرز، اسمارٹ ڈیوائسز، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں کردار ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ فنڈ نے "گوگل کلاؤڈ" کے تعاون سے دمام میں ایک عالمی مرکز برائے مصنوعی ذہانت قائم کیا ہے۔

اسی سلسلے میں "نیو اسپیس گروپ" کا قیام عمل میں آیا، جو سعودی عرب میں سیٹلائٹ اور جغرافیائی ڈیٹا کی صنعت کی قیادت کرے گا۔ فنڈ نے ایک جدید AI ماڈل پر مبنی سرمایہ کاری تجزیہ پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے، اور اپنا خصوصی زبان ماڈل لانچ کیا ہے۔

تابع اداروں کی شاندار کارکردگی

فنڈ سے منسلک کمپنیوں نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ "افیلییس" کمپنی کے ہوائی جہاز کرایہ دینے کے کاروبار میں 382 فیصد سالانہ منافع اور 350 فیصد سے زائد آمدن میں اضافہ ہوا، اور اس کا بیڑا 189 طیاروں تک جا پہنچا۔

"روشن" کمپنی نے مکہ مکرمہ، جدہ اور ظہران میں ہزاروں رہائشی یونٹس کے منصوبے شروع کیے۔ "آلات" کمپنی نے روبوٹ سازی کی جدید تنصیب کے لیے سافٹ بینک کے اشتراک سے 401 ملین ریال کی سرمایہ کاری کی۔

یہ تمام پیش رفت اس بات کی غماز ہیں کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ تنوع اور مالیاتی نظم و ضبط کے امتزاج سے نہ صرف ویژن 2030 کے اہداف حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ قومی معیشت کی تبدیلی کی قیادت بھی کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں