منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ جاری

ایک سیکیورٹی ماہر کا کہنا ہے کہ مملکت کو اسمگلروں اور منشیات فروشوں کا سراغ لگانے کے لیے اعلیٰ درجے کی تکنیکی صلاحیتیں حاصل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مملکت سعودی عرب نے منشیات کی اسمگلنگ کو ناکام بنانے کے لیے پیشگی کارروائیاں انجام دیتے ہوئے ... گزشتہ دنوں کے دوران منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا دیا۔ یہ کارروائیاں چار صوبوں ریاض، الشرقیہ، جدہ اور حائل میں کی گئیں۔

ان کارروائیوں کی قیادت انسدادِ منشیات کے ادارے نے کی، جن میں زکٰوة، ٹیکس و کسٹمز اتھارٹی اور بارڈر گارڈز نے بھی تعاون کیا۔

سیکیورٹی آپریشنوں کے دوران بھاری مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں، جن میں "شبو" (میتھ ایمفیٹامین) بھی شامل تھی، جو موجودہ دور کی مہلک ترین منشیات میں شمار ہوتی ہے اور فرد کی صحت و معاشرتی امن پر تباہ کن اثر ڈالتی ہے۔

انسداد منشیات کے سابقہ افسر، نجران صوبے میں خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ میجر جنرل محمد القرنی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ "منشیات کی اسمگلنگ مختلف اور پیچیدہ طریقوں سے کی جاتی ہے۔ ان میں بعض اوقات انسانوں یا جانوروں کے جسمانی اعضا کو استعمال کیا جاتا ہے، یا منشیات کو گاڑیوں کے خفیہ خانوں اور ٹائروں میں چھپایا جاتا ہے۔ بعض اسمگلر پیدل دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بھی داخل ہوتے ہیں اور اکثر کا تعلق مخصوص ممالک سے ہوتا ہے"۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اسمگلنگ اور منشیات کی فروخت کے نیٹ ورکس کے خلاف درست اور بروقت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ سیکیورٹی ادارے اکثر منشیات کو ان کے اصل مقام یا مملکت میں ترسیل سے قبل ہی ضبط کر لیتے ہیں، جس سے ان مہلک اشیاء کے معاشرے میں پھیلاؤ میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔

محمد القرنی نے سعودی عرب کو دنیا کے ان چند مضبوط ترین ممالک میں شمار کیا جن کے پاس اسمگلنگ کی نشان دہی اور روک تھام کی جدید ترین تکنیکی و انسانی صلاحیتیں موجود ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دیں اور منشیات کے عادی افراد کو بلا خوف علاج کی ترغیب دیں، کیونکہ رضاکارانہ علاج پر کوئی قانونی گرفت نہیں ہوتی۔

آخر میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسداد منشیات کے میدان میں حاصل ہونے والی یہ کامیابیاں سرکاری اور معاشرتی اداروں کے باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہ تھیں۔ سعودی عرب نہ صرف اپنے ملک بلکہ پورے خلیج کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں