سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب خطے میں قابض اسرائیلی حکومت کی جارحیت کو مسترد کرتا ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے، بالخصوص قطر پر کیے گئے بزدلانہ حملے کی جس کے مقابلے کے لیے عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر فوری اقدام نا گزیر ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ قابض طاقت کو اس کی مجرمانہ کارروائیوں سے باز رکھنے اور خطے کے امن و استحکام کو تباہ کرنے کی کوششوں کا سد باب کرنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب، برادر ملک قطر کے ساتھ مکمل طور پر شانہ بشانہ کھڑا ہے اور وہ جو بھی اقدامات کرے گا، سعودی عرب ان کی غیر مشروط حمایت کرے گا۔ ریاض قطر کے تحفظ کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے اور دوحہ پر حملہ، درحقیقت خلیجی ممالک کی سلامتی پر حملہ ہے۔ لہٰذا اس طرح کی کھلی جارحیت کو ہر سیاسی اور قانونی ذریعے سے روکنا ضروری ہے تاکہ یہ دوبارہ کسی بھی بہانے دہرائی نہ جا سکے۔
سعودی عرب قطر کی ہر اُس تدبیر کی تائید کرتا ہے جو وہ اپنی خود مختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اختیار کرے، تاکہ اس قسم کی جارحیت دوبارہ نہ ہو اور دنیا بھر کو واضح پیغام ملے کہ دونوں ملکوں اور عوام کی تقدیر ایک ہے۔
سعودی ولی عہد نے یہ موقف آج بدھ کے روز مجلسِ شوریٰ کے نویں دور کے دوسرے سال کے افتتاح کے موقع پر، خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں پیش کیا۔ اس موقع پر انھوں نے غزہ کے نہتے فلسطینی عوام پر جاری مظالم کی بھی سخت مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ قابض طاقت کی طرف سے بھوک کے ذریعے قتل عام اور جبری بے دخلی جیسے جرائم انسانیت کے خلاف ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ "غزہ کی سرزمین فلسطینی ہے، اور اس پر فلسطینی عوام کا حق قائم ہے، جسے کوئی جارحیت چھین نہیں سکتی اور نہ ہی کسی دھمکی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اس حق کا دفاع کیا جائے اور اس کی پامالی کو روکا جائے۔"
بن سلمان نے یاد دہانی کرائی کہ فلسطین کا مسئلہ سعودی عرب اور اس کی قیادت کے نزدیک ہمیشہ سے عرب و مسلمان دنیا کا اولین اور مرکزی مسئلہ رہا ہے۔
گزشتہ برسوں میں ولی عہد کی طرف سے عرب، اسلامی اور بین الاقوامی سطح پر جو کوششیں کی گئیں، وہ فلسطین کے مسئلے پر ان کی خصوصی توجہ کا ثبوت ہیں۔
ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب کا 2002ء کا عرب امن منصوبہ جو دو ریاستی حل کے تناظر میں بین الاقوامی سطح پر منظور ہوا، آج بھی فلسطینی ریاست کے قیام کا سب سے جامع راستہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ "سعودی کوششوں کے نتیجے میں فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور نیویارک میں دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس نے بے مثال عالمی اتفاقِ رائے کو جنم دیا ہے۔" اس موقع پر انھوں نے خطے اور دنیا کے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دیگر ممالک کو بھی اس عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
سعودی قیادت نے فلسطینی مسئلے کے لیے خصوصی بین الاقوامی کانفرنس بلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، حالانکہ اسے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس اقدام نے سعودی عرب کے خود مختار قومی فیصلے اور فلسطینی عوام کے حق میں اس کے مضبوط اور دوٹوک موقف کو اجاگر کیا۔ اس سے پہلے بھی سعودی عرب نے دو ریاستی حل کے لیے قائم عالمی اتحاد کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کی تھی۔
شام کے حوالے سے ولی عہد نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے اور کئی عملی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں شام پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ، اس کی اراضی کی وحدت کی حمایت اور معیشت کی بحالی کی کوششیں شامل ہیں۔ اسی طرح سعودی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے شام پر پابندیاں اٹھائے جانے سے دمشق کو امن و استحکام ملا اور عبوری سیاسی عمل کی کامیابی کے ساتھ ساتھ شامی حکومت کو اقتصادی مشکلات سے نمٹنے میں مدد ملی۔
ولی عہد نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ لبنان، یمن اور سوڈان میں بھی امن قائم ہو۔ اس مقصد کے لیے سعودی عرب ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیتا رہا ہے اور مسلسل کوششیں کرتا رہا ہے تاکہ ان ممالک کے عوام کو امن ملے اور پورے خطے میں استحکام قائم ہو۔
-
قطر پر اسرائیلی حملہ مجرمانہ اقدام ہے ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کے روز قطر پر اسرائیلی حملے کی ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی حملے میں قطری سیکورٹی اہل کار کی ہلاکت پر سعودی عرب کی تعزیت
ریاض نے ایک بار پھر دوحہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے
مشرق وسطی -
سعودی ولی عہد اور اردنی فرماں روا کا قطر کے ساتھ یکجہتی پر زور
سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ ...
مشرق وسطی