'انسانی ساختہ بحران' اقوامِ متحدہ کا امداد پہنچانے کے لیے غزہ میں موجود رہنے کا عہد

غزہ سٹی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں قحط کی تصدیق کے دو ہفتوں بعد کشیدگی بڑھائی گئی: یو این ٹیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ نے جب تک ممکن ہوا غزہ سٹی اور پٹی کے تمام حصوں میں رہنے کا عہد کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے زندگی بچانے والی امداد اور خدمات فراہم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ فلسطینی علاقوں میں اقوامِ متحدہ کی انسانی ٹیم، جس میں اقوامِ متحدہ کی ایجنسیاں اور 200 سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں شامل ہیں، نے کہا کہ یہ کشیدگی غزہ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں قحط کی تصدیق کے دو ہفتوں بعد آئی ہے۔

ایک پریس بیان میں اقوام متحدہ کی ٹیم نے مزید کہا کہ جبکہ اسرائیلی حکام نے یک طرفہ طور پر جنوب میں ایک علاقے کو انسانی قرار دیا ہے لیکن انہوں نے ان لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں جنہیں وہاں منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے اور وہاں موجود لوگوں کے ساتھ ساتھ نئے آنے والوں کی مدد کے لیے خدمات کا حجم اور دائرہ مناسب نہیں ہے۔

جاری اسرائیلی پابندیوں کے پیشِ نظر یو این کی ٹیم نے انسانی رسائی کو شمال اور جنوب کی براہِ راست سڑکوں تک بڑھانے اور ایندھن اور پانی کی فراہمی کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹیم نے غزہ کے خاندانوں کے لیے ایک پیغام بھیجا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ انسانی برادری غزہ سٹی میں جب تک ممکن ہوا موجود رہے گی۔ وہ پٹی میں اپنا کام جاری رکھے گی اور زندگی بچانے والی امداد اور خدمات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

انہوں نے عالمی برادری سے فوری جنگ بندی اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے کے لیے کام کرنے اور مطالبہ کرنے کی اپیل کی جس میں یرغمالیوں اور من مانی طور پر حراست میں لیے گئے لوگوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ انسانی ٹیم نے کہا کہ غزہ میں آفت انسانوں کی بنائی ہوئی ہے اور اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں