فلسطینیوں کے حق واپسی کی علامت چابی کا اظہار کیوں کیا ، محمود عباس پر بھی اسرائیل برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی سے اپنے ریکارڈڈ خطاب میں اس روائتی چابی کو پین کے طور استعمال کیا جو فلسطینیوں کے حق واپسی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مگر اسرائیل سے چابی کی ننھی سی علامت کو اپنے لیے خوف کی علامت بنا کر دنیا کو باور کراتا ہے کہ یہ اسرائیل کی تباہی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

اسرائیل حق واپسی کی علامت چابی کو اپنے قبضے کے خلاف سمجھ کر خوفزدہ ہوتا ہے۔

فلسطینی عوام نے اس حق واپسی کے اظہار کے لیے جڑی چابی کو 1948 کی اس بڑی جبری نقل مکانی کے خلاف اپنے گھروں کی چابی کے طور پر اختیار کر رکھا ہے کہ یہ چابی ظاہر کرتی ہے کہ ہم ابنے گھروں میں ضرور واپس آئیں گے۔

محمود عباس کی طرف سے اپنے لباس میں اس چابی کو لیپل پن کی جگہ استعمال کرنے کو اسرائیلی ریاست نے ایک ایشو بنا کر اس طرح شور شروع کیا ہے کہ جیسے وہ اس چابی کی وجہ سے ممکنہ طور پر 'مظلوم' بن سکتا ہے۔

خیال رہے جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس میں غزہ میں اسرائیلی جنگ، جنگی جرائم اور نسل کشی اور فلسطینیوں کے بچوں کو بھوک سے مارنے کی جنگی حکمت عملی پر بات رہی ہے۔ ایسے میں اسرائیل نے اس چابی کی علامت کو اپنا قبضہ چھڑوانے کی علامت کے طور پر بتا کر خود کو ممکنہ 'مظلوم' بنانے کا کارڈ ایجاد کر لیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس پر یہ کہہ کر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر تنقید کی ہے کہ فلسطینیوں کے گھروں کی یہ علامتی چابی اسرائیل کو ختم کرنے کا اظہار ہے۔

اسرائیل نے عرب ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں پناہ لینے والے فلسطینیوں کو مستقل شہریت دیں تاکہ فلسطینی اپنے اور آباؤ اجداد کے گھروں اور فلسطینی سرزمین کو بھول جائیں اور حق واپسی کی باتیں ختم کر دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں