فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی سے اپنے ریکارڈڈ خطاب میں اس روائتی چابی کو پین کے طور استعمال کیا جو فلسطینیوں کے حق واپسی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مگر اسرائیل سے چابی کی ننھی سی علامت کو اپنے لیے خوف کی علامت بنا کر دنیا کو باور کراتا ہے کہ یہ اسرائیل کی تباہی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
اسرائیل حق واپسی کی علامت چابی کو اپنے قبضے کے خلاف سمجھ کر خوفزدہ ہوتا ہے۔
فلسطینی عوام نے اس حق واپسی کے اظہار کے لیے جڑی چابی کو 1948 کی اس بڑی جبری نقل مکانی کے خلاف اپنے گھروں کی چابی کے طور پر اختیار کر رکھا ہے کہ یہ چابی ظاہر کرتی ہے کہ ہم ابنے گھروں میں ضرور واپس آئیں گے۔
محمود عباس کی طرف سے اپنے لباس میں اس چابی کو لیپل پن کی جگہ استعمال کرنے کو اسرائیلی ریاست نے ایک ایشو بنا کر اس طرح شور شروع کیا ہے کہ جیسے وہ اس چابی کی وجہ سے ممکنہ طور پر 'مظلوم' بن سکتا ہے۔
خیال رہے جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس میں غزہ میں اسرائیلی جنگ، جنگی جرائم اور نسل کشی اور فلسطینیوں کے بچوں کو بھوک سے مارنے کی جنگی حکمت عملی پر بات رہی ہے۔ ایسے میں اسرائیل نے اس چابی کی علامت کو اپنا قبضہ چھڑوانے کی علامت کے طور پر بتا کر خود کو ممکنہ 'مظلوم' بنانے کا کارڈ ایجاد کر لیا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس پر یہ کہہ کر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر تنقید کی ہے کہ فلسطینیوں کے گھروں کی یہ علامتی چابی اسرائیل کو ختم کرنے کا اظہار ہے۔
اسرائیل نے عرب ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں پناہ لینے والے فلسطینیوں کو مستقل شہریت دیں تاکہ فلسطینی اپنے اور آباؤ اجداد کے گھروں اور فلسطینی سرزمین کو بھول جائیں اور حق واپسی کی باتیں ختم کر دیں۔
-
اسرائیلی ریاست کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی صرف ٹرمپ رکوا سکتے ہیں:شہزادہ ترکی الفیصل
سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا میں ...
مشرق وسطی -
"اعلانِ نیویارک" تصدیق کرتا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارہ ایک ہی فلسطینی سرزمین ہیں
ریاض اور پیرس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اب محض بیانات پر اکتفا نہ کرے ...
مشرق وسطی -
مصر کا غزہ کی جنگ کے بعد کے لیے فلسطینی فورسز کی تربیت شروع کرنے کا اعلان
اسلحہ رکھنے کا واحد اور مکمل اختیار فلسطینی ریاستی اداروں کو حاصل ہونا چاہیے : ...
بين الاقوامى