دمشق میں ایک تحقیقاتی جج توفیق العلی نے سابق شامی صدر بشار الاسد کے خلاف عدم حاضری میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ یہ وارنٹ درعا میں 23 نومبر 2011 کو پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہے۔ یہ اطلاع سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" نے دی۔
جج العلی نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ وارنٹ میں جان بوجھ کر قتل، تشدد کے نتیجے میں موت اور آزادی سے محروم کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے تحت اس وارنٹ کو انٹرپول کے ذریعے شائع کیا جا سکتا ہے اور اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھایا جائے گا۔
جج نے مزید بتایا کہ یہ اقدام درعا کے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ "سابقہ نظام سے جڑے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی"۔
درعا کے واقعات
درعا میں 2011 کے واقعات شام میں بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت کی چنگاری ثابت ہوئے۔ مارچ 2011 میں درعا کے بچوں نے اسکولوں کی دیواروں پر حکومت مخالف نعرے لکھے، جس پر سیکیورٹی اداروں نے انھیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس اقدام نے عوامی غصہ بھڑکا دیا اور پر امن احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا جن میں گرفتار بچوں کی رہائی اور سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم حکومت نے ان مظاہروں کا جواب انتہائی طاقت کے استعمال سے دیا۔ سیکیورٹی فورسز اور فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ریاستی جبر کے باعث مظاہرے شام کے مختلف شہروں میں پھیل گئے اور اصلاحات کے مطالبات رفتہ رفتہ نظام کی تبدیلی کے نعروں میں تبدیل ہو گئے۔ درعا کے واقعات کو اس عوامی تحریک کی ابتدا سمجھا جاتا ہے جو بعد میں مسلح تنازع اور خانہ جنگی میں بدل گئی، جس نے برسوں تک ملک کو سیاسی و انسانی بحران میں مبتلا کیے رکھا۔
آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد کا نظام اچانک فوج کے انہدام اور فوجی ٹھکانوں کے ترک کیے جانے کے بعد گر گیا، جس کے نتیجے میں اسے روس فرار ہونا پڑا۔
سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک ڈرامائی منظر میں شامی اپوزیشن نے دمشق پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی الاسد خاندان کی پانچ دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔
-
غزہ میں امن کے لیے صدر ٹرمپ کا نیا منصوبہ ، اس میں کیا شامل کیا کتنا وقت ملے گا ؟
امریکی صدر ٹرمپ نے عرب اور اسلامی ملکوں کے سربراہان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ...
مشرق وسطی -
وفاقی نظام شام کے لیے موزوں حل نہیں ہے: امریکی ایلچی
آئندہ حکومت تمام برادریوں اور اقلیتوں کے حقوق یقینی بنائے گی
مشرق وسطی -
اسرائیل- شام مذاکرات آخری لمحات میں تعطل کا شکار ہو گئے: ذرائع
شام اور اسرائیل کے حال ہی میں ایک سکیورٹی معاہدہ کرنے کے قریب پہنچنے کے بعد تعطل ...
مشرق وسطی