سفارتی مشیر برائے صدر متحدہ عرب امارات انور قرقاش نے بدھ کے روز ایک سمجھوتے پر زور دیا تاکہ فلسطینیوں کے لیے ایک قابلِ عمل ریاست کی فراہمی اور اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنا کر شرقِ اوسط تنازعے کا خاتمہ کیا جائے۔
قرقاش نے ابوظہبی میں رائٹرز نیکسٹ گلف سمٹ میں ایک انٹرویو میں کہا، غزہ جنگ بندی ایک اہم راستہ فراہم کرتی ہے لیکن دنیا کے ایک پیچیدہ ترین تنازعے کے لیے نکتۂ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
"یہ یقیناً ایک موقع ہے۔ میرے خیال میں پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں موقع ملا ہے کیونکہ آج ہمارے پاس راستہ بدلنے کا ایک امکان ہے،" انہوں نے کہا۔
دو سالہ جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کی کوششوں میں متحدہ عرب امارات کو ایک اہم کردار سمجھا جا رہا ہے۔
قرقاش نے کہا، "بعض پالیسیاں اب درست نہیں ہیں اور ان کا احیاء نہیں ہونا چاہیے، مسئلہ فلسطین پر شدت پسندانہ نظریات اب درست نہیں ہیں، ہمیں یہ مسئلہ حل کرنا ہو گا کہ ہمارے پاس دو متضاد اقوام پرستی ایک قطعۂ زمین پر لڑ رہی ہیں اور یہ زمین تقسیم کرنا ہو گی۔"
"کیا ہم یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ایسے ہی شدت پسندانہ خیالات جاری رکھیں گے مثلاً اسرائیلی کے نکتۂ نظر سے جسے سمجھنا ہو گا کہ یہ ختم ہونے والا نہیں ہے،" قرقاش نے مزید کہا جو 2008 سے 2021 تک وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
خطے میں متحدہ عرب امارات کا بااثر کردار
تیل کا ایک بڑا پیدا کنندہ ابو ظہبی خطے میں اور اس سے باہر سفارتی طور پر توقع سے زیادہ بااثر ہے اور اس نے مغرب سے افریقہ تک ہر جگہ تزویری سرمایہ کاری کرکے وسیع اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت لانا نسیبہ نے رائٹرز نیکسٹ گلف سمٹ میں ایک پینل کے دوران کہا کہ ان کا ملک خطے میں رواداری کو فروغ دینے اور ذہنیت تبدیل کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لایا ہے۔
نسیبہ نے کہا کہ "اشد ضروری غزہ جنگ بندی کے حصول میں مدد کے لیے ہم نے عرب خطے، امریکہ اور اسرائیل سے شراکت داری کی اور ابراہم معاہدے کا استعمال کیا۔"
قرقاش نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق متحدہ عرب امارات کے لیے ایک "سرخ لکیر" ہو گا۔
جیسا کہ دیگر عرب ریاستوں کی شمولیت کے لیے امریکی صدر ابراہم معاہدے کو توسیع دینا چاہتے ہیں تاکہ شرقِ اوسط میں استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے تو کیا یہ سرخ لکیر اس کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں قرقاش نے کہا، اب توجہ ٹرمپ منصوبے پر عمل درآمد کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ غزہ جنگ کا خاتمہ ہو۔
چونکہ غزہ جنگ بندی نازک بنیادوں پر کھڑی ہے تو اس کے اگلے مرحلے کے لیے انتہائی حساس سوالات باقی ہیں مثلاً حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مطالبات اور مستقبل میں اس گروپ کا انکلیو پر حکومت کرنے میں کوئی کردار نہ ہونا۔
متحدہ عرب امارات حماس جیسے گروپوں کو ایک وجودی خطرہ سمجھتا ہے اور یہ مؤقف اکثر اس کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
قرقاش نے کہا، "سیاسی اسلام کو 30 سال گذر چکے ہیں اور یہ یہاں دو سالہ جنگ میں ایک اہم عنصر تھا۔ شاید سیاسی اسلام اب ختم ہو جائے۔"
-
غزہ معاہدے کےاستحکام کےلیے پُرامید ہیں،فی الوقت حماس کوغیرمسلح کرنے کاکوئی ٹائم فریم نہیں
ٹرمپ کے نائب اسرائیل میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کر رہے ...
بين الاقوامى -
غزہ میں جنگ بندی کامیاب بنانے کے لیے امریکا کی بھرپور سفارتی سرگرمیاں جاری
ٹرمپ کے نائب آج نیتن یاہو سے ملاقات کر رہے ہیں
بين الاقوامى -
غزہ میں امدادکی اجازت دینےکےلیےاسرائیل کی ذمہ داریاں: یواین کی اعلیٰ عدالت فیصلہ سنائے گی
اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت بدھ کو غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے ...
مشرق وسطی