اسرائیل نے شام میں لا پتا امریکی کے بارے میں معلومات اکٹھا کی ... ماں نے کیا اپیل کی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں 2012 میں لا پتا ہونے والے امریکی صحافی اوسٹن ٹیس کی گمشدگی کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آگیا ہے۔ اگرچہ سابق شامی حکومت کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسے سزائے موت دی گئی تھی، لیکن اس کی والدہ ڈیبرا آج تک اس کے بارے میں کوئی سراغ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ گذشتہ سال دمشق بھی گئی تھیں تاکہ سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے بیٹے کے انجام سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں، اور اس وقت نئے صدر احمد الشرع نے معاملہ دیکھنے کا وعدہ کیا تھا۔

اس بار ڈیبرا نے اسرائیلی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اوسٹن کے بارے میں اپنے پاس موجود تفصیلات ظاہر کرے۔ اسرائیلی چینل N12 کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈیبرا نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ اداروں کی جمع کردہ تمام معلومات ان کے سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے اپنے پاس موجود خفیہ معلومات فراہم کی ہیں اور وہ امید کرتی ہیں کہ تل ابیب بھی ایسا ہی کرے گا۔ ڈیبرا نے نیتن یاہو سے یہ بھی کہا کہ انہیں اسرائیل مدعو کیا جائے تاکہ وہ تمام مواد کا جائزہ لے سکیں۔

اسرائیلی حکام پہلے بتا چکے ہیں کہ ان کے خفیہ ادارے برسوں سے اوسٹن کے بارے میں معلومات جمع کرتے رہے ہیں اور یہ معلومات باقاعدگی سے امریکی انٹیلی جنس کو بھی فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق افسر آوی کالو کے مطابق اسرائیلی اداروں کو اس بات کے اشارے ملے تھے کہ اوسٹن کی گمشدگی میں شامی سکیورٹی ادارے ملوث تھے، اور یہ معلومات بھی امریکہ کو منتقل کی گئی تھیں۔

امریکی انٹیلی جنس کے پاس اوسٹن سے متعلق تازہ ترین معلومات اکتوبر 2024 کی ہیں، یعنی بشار الاسد کے نظام کے خاتمے سے چھ ہفتے پہلے کی۔ تاہم اوسٹن کے اہلِ خانہ کو امید ہے کہ اسرائیل کے پاس اس سے بھی نئی معلومات ہوں گی، خصوصاً وہ جو اب جلاوطنی میں موجود سابق شامی حکام سے حاصل کی گئی ہوں۔

یاد رہے کہ اوسٹن ٹیس، جو سابق میرین افسر اور "واشنگٹن پوسٹ" کے لیے آزاد صحافی تھے، اگست 2012 میں دمشق کے قریب لا پتا ہوئے تھے، اس وقت ان کی عمر 31 برس تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں