لبنانی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ یوسف رجّی نے تہران کے دورے کی دعوت فی الحال مسترد کر دی اور اس کے بجائے یہ تجویز کیا ہے کہ ایران سے مذاکرات کسی غیر جانبدار تیسرے ملک میں کیے جائیں۔
تاہم اس کے باوجود رجّی نے زور دیا کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی دعوت مسترد کر دینے کا مطلب "مذاکرات کو مسترد کرنا نہیں" بلکہ یہ ہے کہ "سازگار حالات دستیاب نہیں ہیں۔"
عراقچی نے گذشتہ ہفتے اپنے لبنانی ہم منصب کو دو طرفہ روابط پر مذاکرات کے لیے ایران آنے کی دعوت دی تھی۔
العربیہ کے ملاحظہ کردہ بیان کے مطابق لبنان کے اعلیٰ سفارت کار نے کسی تیسرے ملک میں مذاکرات کے لیے کشادہ دلی کا اظہار کیا جس پر فریقین متفق ہو سکیں۔
رجّی نے "لبنان اور ایران کے درمیان تعمیری روابط کا ایک نیا دور شروع کرنے کے لیے مکمل رضامندی کا اظہار اس شرط پر کیا کہ یہ ہر ملک کی آزادی اور خودمختاری کے باہمی اور حتمی احترام اور کسی بھی بہانے سے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہو۔"
ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کا اشارتاً حوالہ دیتے ہوئے رجّی نے عراقچی کو بتایا کہ اس بات پر"پختہ یقین" ہے کہ کوئی مضبوط ریاست تب تک نہیں بن سکتی جب تک کہ حکومت کو ہتھیار رکھنے کا خصوصی حق حاصل نہ ہو اور امن اور جنگ کے معاملات میں فیصلے کا خصوصی اختیار نہ ہو۔
"لبنان کے دورے کے لیے آپ کا ہمیشہ خیرمقدم کیا جائے گا،" رجّی نے عراقچی کے نام اپنے خط کا اختتام اس جملے پر کیا۔
حزب اللہ پر ملکی اور بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنا تمام اسلحہ ریاستی کنٹرول میں رکھے۔
اگست میں ایران کے اعلیٰ سیکورٹی اہلکار علی لاریجانی نے بیروت کا دورہ کرتے ہوئے لبنان کو خبردار کیا تھا کہ وہ "اپنے دشمنوں کو اپنے دوستوں سے گڈمڈ نہ کرے"۔
-
اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
اسرائیلی جنگی طیاروں نے فضائی حملوں کی ایک سلسلہ وار کارروائی انجام دی
مشرق وسطی -
تنازع کے بعد: حزب اللہ کا نام عراق کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دیا
گذشتہ ہفتے عراق میں وسیع تنازع کے بعد دہشت گرد تنظیموں کی فنڈز کو منجمد کرنے کا ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب اور ایران بیجنگ معاہدے پر مکمل عمل درآمد جاری رکھنے پر اتفاق
تینوں ممالک کا خطے میں سکیورٹی و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور
مشرق وسطی