کئی دنوں سے انٹرنیٹ بندش کے دوران منگل کے روز ایرانی شہریوں کو ایران سے باہر موبائل فونز پر کال کرنے کی سہولت میسر آگئی۔ اس دوران بہت سے لوگوں نے امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے بھی بات کی اور خاص طور پر صحافیوں نے 'اے پی' سے رابطہ کیا۔
ان صحافیوں نے دبئی میں موجود 'اے پی' کے بیورو سے فون پر بات چیت کی اور صورتحال سے اپ ڈیٹ کیا۔ تاہم بعد ازاں 'اے پی' کی طرف سے ان کے فون نمبرز پر دوبارہ کال کی گئی تو رابطہ نہ ہو سکا۔
بتایا گیا ہے کہ ایرانی شہریوں کا میسج پر رابطہ کرنا بھی ابھی کار آمد نہیں ہے۔ جبکہ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے بھی باہر کی دنیا سے رابطہ کرنا ممکن نہیں۔
ایران نے جمعرات کے روز انٹرنیٹ کو اس وقت بند کر دیا تھا جب ان احتجاجی مظاہروں میں زیادہ شدت پیدا ہوئی اور فون کالز بھی رک گئی تھیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اس وقت واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے اور اس کی یہ خواہش حملہ کرنے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئی ہے جو اس نے ایرانی مظاہرین پر تشدد کا نوٹس لیا۔ جس میں اب تک 646 افراد مارے گئے ہیں۔
-
ایرانی مظاہرین پرپرتشدد کریک ڈاؤن، سربراہ برائےحقوق اقوامِ متحدہ کا 'خوف' اورتشویش کااظہار
جیسا کہ ایران کے طول و عرض میں جاری مظاہروں میں سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے ...
بين الاقوامى -
امریکہ : ایران میں موجود اپنے شہریوں کو فوری نکلنے کی ہدایت کر دی
ایران کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے ایران میں مقیم اپنے تمام شہریوں ...
بين الاقوامى -
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی کشیدگی پیدا ہوئی تو خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے : قطر
ایک امریکی عہدے دار کے مطابق تہران کے خلاف محدود اختیارات اب بھی زیر غور ہیں
مشرق وسطی