عراق نے اعلان کیا ہے کہ شام کے ساتھ سرحد پر کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر کا 80 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ شام سے منتقل کیے جانے والے داعش قیدیوں کو انتہائی محفوظ جیلوں میں رکھا جائے گا۔
عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان صباح النعمان نے بتایا کہ کمانڈر انچیف نے شام کے ساتھ کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جو 80 فیصد تک تیار ہوچکی ہے اور اب اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔
انہوں نے عراقی خبر رساں ایجنسی ’واع‘ کو بتایا کہ یہ دیوار تھرمل کیمروں سے لیس ہے اور یہ عراق اور شام کی سرحد کے درمیان تین بڑے حفاظتی حصاروں میں سے ایک ہے جبکہ دیگر میں خار دار تاریں اور شق دار خندق شامل ہیں جن کے ساتھ کنکریٹ دیوار بھی قائم کی جارہی ہے۔
صباح النعمان نے کہا کہ عراقی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں نہ صرف شام کے ساتھ بلکہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شام میں غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال کے باعث عراقی۔ شامی سرحد پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی بھی قسم کی دراندازی کا خدشہ نہیں حتیٰ کہ انفرادی اور محدود کوششیں بھی ممکن نہیں کیونکہ عراقی تحصینات اور سخت سکیورٹی تعیناتی موجود ہے۔
ایک اور تناظر میں ترجمان نے بتایا کہ شام سے داعش کے قیدیوں کی منتقلی کی منظوری کا عراقی حکومتی فیصلہ اہم اور جرات مندانہ ہے جو قومی سلامتی کے وزارتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شام میں صورتحال غیر مستحکم ہے اور ایسے حالات میں ان قیدیوں کا وہاں موجود رہنا ایک حقیقی خطرہ بن چکا تھا کیونکہ الہول کیمپ سے فرار یا نکلنے کا اندیشہ تھا خاص طور پر اس لیے کہ ان میں سے بیشتر خطرناک دہشت گرد اور اعلیٰ قیادت کی سطح سے تعلق رکھتے ہیں۔
صباح النعمان نے واضح کیا کہ ان قیدیوں نے عراقی اور شامی عوام کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں اور یہ تمام افراد عراقی عدلیہ کو مطلوب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی منتقلی عراقی عدلیہ کو مطلوب افراد کو تحویل میں لینے کا ایک بڑا موقع ہے کیونکہ وزارت انصاف کے پاس انہیں سنبھالنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایک جامع منصوبہ موجود ہے۔ قیدیوں میں عراقی اور غیر ملکی دونوں شامل ہیں جو عراق اور شام کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث ہیں۔
ترجمان کے مطابق ان کی گرفتاری شام میں ایسے وقت ہوئی جب قسد فورسز کے پاس کوئی باقاعدہ عدالتی اختیار موجود نہیں تھا لہٰذا اب عراق کے اندر ان کے خلاف عدالتی کارروائی مکمل کی جائے گی کیونکہ وہ سرکاری وارنٹس کے تحت عراقی عدلیہ کو مطلوب ہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ قیدیوں کی منتقلی مشترکہ آپریشنز کمانڈ اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کے تیار کردہ سخت منصوبے کے تحت ہوگی جس میں وزارت انصاف کے ساتھ مکمل رابطہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی جیلیں اس وقت اعلیٰ درجے کی فول پروف سکیورٹی اور جدیدحفاظتی صلاحیتوں کی حامل ہیں اور انہیں پیشہ ور سکیورٹی فورسز چلا رہی ہیں۔
-
امریکہ شام سے مکمل فوجی انخلا پر غور کر رہا ہے: وال اسٹریٹ جرنل
امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے متعدد منظرنامے ہیں
مشرق وسطی -
ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کو حکومت میں شامل نہ کریں: امریکہ کا عراقی رہنمائوں کو انتباہ
امریکہ نے عراق کے سینیئر سیاستدانوں کے ذریعے دھمکی دی ہے اگر عراق نے ایرانی حمایت ...
مشرق وسطی -
دارچینی، ادرک اور ہلدی شامل ہیں، سردیوں کے 7 مصالحے جو ذیابیطس پر کنٹرول میں مدد دیتے ہیں
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی دسترخوان پر طرح طرح کے خوش ذائقہ پکوان سجنے لگتے ہیں، مگر ...
ایڈیٹر کی پسند