داعش کے تمام گرفتار شدگان کو ایک ہی جیل میں رکھا گیا ہے: عراقی حکومت
عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ "تنظیم حال ہی میں شام میں انتہائی سرگرم ہو گئی ہے"
شام سے داعش کے گرفتار ارکان کی عراق منتقلی کی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد عراقی وزارتِ انصاف نے نئی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
وزارت نے آج جمعہ کو واضح کیا ہے کہ شام سے منتقل کیے گئے تمام داعشیوں کو ایک ہی محفوظ جیل میں رکھا گیا ہے۔
وزارت کے ترجمان احمد لعیبی نے عراقی نیوز ایجنسی (واع) کو بتایا کہ "منتقل کیے گئے افراد کی تعداد 5064 ہے، جن میں 270 سے زائد عراقی اور 3 ہزار سے زائد شامی باشندے شامل ہیں، جبکہ بقیہ تعداد دیگر قومیتوں کے افراد کی ہے"۔
انھوں نے واضح کیا کہ "تمام دہشت گردوں کو ایک ہی جیل میں رکھا گیا ہے اور ان سے تفتیش کے بعد عراقی قانون کے مطابق مقدمات چلائے جائیں گے"۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق داعش کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی اتحاد کا ایک بنیادی رکن ہے اور ان عناصر کی میزبانی اور انہیں قید کرنا اتحاد کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "داعش کے عناصر کے کھانے پینے کے اخراجات بین الاقوامی اتحاد برداشت کر رہا ہے نہ کہ عراق"۔
دوسری جانب عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک کو "داعش کے قیدیوں کی آمد سے نمٹنے کے لیے مزید مالی مدد کی ضرورت ہے"۔
روئٹرز کے مطابق انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ "عراق عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے شہریوں کی حوالگی کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے"، تاہم انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ "یورپی ممالک اس معاملے میں زیادہ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں"۔
علاوہ ازیں انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد "شام میں یہ تنظیم حالیہ دنوں میں انتہائی سرگرم ہو گئی ہے"۔
دریں اثنا، امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے داعش کے قیدیوں کی عراقی حدود میں منتقلی کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنی 23 روزہ مہم کے اختتام کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک عراقی سکیورٹی اہل کار نے بدھ کو بتایا تھا کہ امریکی فوج نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران تنظیم کے 5000 سے زائد زیرِ حراست عناصر کو منتقل کیا ہے جن میں اکثریت شامیوں کی ہے، اس کے علاوہ سیکڑوں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
یہ ان سات ہزار کے قریب انتہا پسند تنظیم کے قیدیوں میں سے ہیں جن کی شام سے عراق منتقلی کا عمل شروع کرنے کا اعلان امریکی مرکزی کمان نے گذشتہ ماہ کیا تھا۔ اس کا مقصد "اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ دہشت گرد محفوظ حراستی مراکز میں رہیں"۔
واضح رہے کہ داعش نے 2014 سے شمالی اور مغربی عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، یہاں تک کہ 2017 میں عراقی افواج نے بین الاقوامی اتحاد کے تعاون سے اسے شکست دے دی۔
گذشتہ برسوں کے دوران عراقی عدالتوں نے اس "دہشت گرد گروہ" سے وابستگی اور قتل کے جرم میں ملوث افراد کو سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ عراق متعلقہ ممالک سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لے کر ان پر مقدمات چلانے کو یقینی بنائیں۔
-
شام : امریکہ نے داعش کے خلاف لڑائی کے لیے قائم فوجی اڈے سے مکمل انخلاء کا فیصلہ کر لیا
امریکی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ شام میں موجود اپنے اس فوجی اڈے سے ...
مشرق وسطی -
داعش کے 2,200 سے زائد قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کر دیا گیا: عراقی اہلکار
ایک عراقی اہلکار نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو بتایا، عراق کو اب تک داعش گروپ کے ...
بين الاقوامى -
داعش کا خطرہ مزید پیچیدہ اور سنگین ہو گیا:اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ سنہ 2025 کے وسط سے داعش کی جانب سے لاحق ...
بين الاقوامى