ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ ہفتے کے آخر میں ناکام مذاکرات کے بعد پاکستان کے راستے امریکہ کے ساتھ تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا، "اتوار کو ایرانی وفد کی تہران واپسی کے بعد سے پاکستان کے ذریعے متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔"
نیز کہا، "اسلام آباد مذاکرات کے تسلسل کے طور پر آج ہمارے ہاں ایک پاکستانی وفد کی آمد کا قوی امکان ہے۔"
بقائی نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایران نے اپنے منجمد اثاثہ جات جاری کرنے کو کہا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، رائٹرز نے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
اس حوالے سے بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ ابتدائی مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہو جانے کے بعد امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیمیں دوبارہ مذاکرات کے لیے پاکستان واپس آ سکتی ہیں۔
ان کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی مقام پر باضابطہ اتفاق ہوا ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں اگلے دو روز میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا۔
جنگ بندی کو طول دینے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے اصولی رضامندی ظاہر کر دینے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد ایک سینئر امریکی اہلکار نے بدھ کے روز نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، "امریکہ نے جنگ بندی میں توسیع پر باضابطہ رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے کرنے کے لیے مسلسل رابطے جاری ہیں۔"
-
ایرانی وزارتِ خارجہ کا یورینیم افزودگی کےحق پراصرار تاہم اس کی سطح پر مذاکرات کےلیے آمادہ
ایرانی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ تہران کا یورینیم کی افزودگی کا حق "ناقابلِ ...
مشرق وسطی -
ایرانی فوج کی دھمکی: امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو بحیرۂ احمر بند کر دیں گے
ایران کی فوج نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ...
مشرق وسطی -
ایرانی انٹیلی جنس نے اہواز میں علیحدگی پسند گروہ کے سربراہ کو گرفتار کر لیا
ایرانی انٹیلی جنس نے ملک کے جنوب مغرب میں واقع علاقے اہواز میں ایک علیحدگی پسند ...
مشرق وسطی