صحرائے نجف میں اترنے والی فورس اسرائیلی تھی جو امریکی ہتھیاروں سے لیس تھی : عراقی کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں صحرائے نجف میں اسرائیلی افواج کی جانب سے ایک خفیہ مقام قائم کرنے اور ایران کے خلاف جنگ میں اسے استعمال کرنے سے متعلق رپورٹوں کے بعد اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

کربلا آپریشنز کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل علی الہاشمی نے "العربیہ/الحدث" کو بتایا کہ صحرائے نجف میں اترنے والی فورس اسرائیلی تھی جو امریکی ہتھیاروں سے لیس تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سکیورٹی فورسز نے جیسے ہی اس موجودگی کا سراغ لگایا، وہ جائے وقوعہ پر پہنچیں، تاہم 48 گھنٹے سے بھی کم وقت میں جب فوج وہاں پہنچی تو وہاں کسی فوجی اڈے کے آثار نہیں ملے۔

عراقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ مارچ میں عراقی افواج کا نامعلوم دستوں کے ساتھ مقابلہ ہوا تھا، جس کے بعد وہ نامعلوم فورس فضائی نگرانی میں پیچھے ہٹ گئی تھی۔ حکومت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس وقت عراقی سرزمین پر کوئی غیر ملکی اڈا یا فوج موجود نہیں ہے۔

عراقی افواج اور حشد الشعبی نے نجف اور کربلا کے صحرائی علاقوں میں "فرضِ سیادت" کے نام سے ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد کربلا اور نخیب کے درمیانی راستے کو محفوظ بنانا ہے۔ عراقی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبد الامیر یار اللہ خود ان حفاظتی انتظامات اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے نخیب پہنچے ہیں۔

سکیورٹی میڈیا سیل کے مطابق 5 مارچ 2026 کو عراقی فورسز کی نا معلوم مسلح گروہوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک اہل کار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر عواد الشمری نامی ایک چرواہے کی تصویر بھی وائرل ہو رہی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے سب سے پہلے اس مشکوک فوجی نقل و حرکت کی اطلاع حکام کو دی تھی۔

فرانس پریس (AFP) نے ایک عراقی سکیورٹی اہل کار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے صدام حسین کے دور کے ایک متروکہ رن وے پر یہ اڈا قائم کیا تھا۔ امریکی حکام اور "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق، اسرائیل نے یہ اڈا امریکہ کے علم میں رہتے ہوئے بنایا تھا تاکہ ایران کے قریب ایک لوجسٹک مرکز اور سپیشل فورسز کے لیے جگہ فراہم کی جا سکے۔ اسرائیل نے تا حال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں