سعودی عرب میں سکیورٹی آپریشن مراکز میں 210 ملین سے زائد کالیں موصول
جدید ٹیکنالوجی اور سعودی عملے کی بدولت ہنگامی صورتحال میں پیشگی سکیورٹی کا نظام مستحکم
سعودی عرب میں سکیورٹی نظام ہنگامی کالز وصول کرنے، معلومات کی فراہمی اور ان کی تکمیل تک پیروی کا عمل تیز کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی وزارت داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں یکجا سکیورٹی آپریشن مراکز 911 نے اپنے قیام سے اب تک 210 ملین سے زائد کالیں موصول کی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی’ایس پی اے‘ کے مطابق وزارت داخلہ کے ان مراکز میں سکیورٹی آپریشن رومز نے ہنگامی حالات میں پیشگی سکیورٹی کا تصور قائم کیا ہے۔ یہ مراکز جدید تکنیکی نظاموں اور اعلیٰ درستگی والے کیمروں کے ذریعے جرائم کے وقوع پذیر ہونے سے قبل ان کے اشاریوں کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان مراکز کو سعودی قومی عملہ چلا رہا ہے جو تقریباً 8 عالمی زبانیں بول سکتا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی اور فیصلہ سازوں کو سکیورٹی کے قیام اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے معاونت فراہم کی جا سکے۔
سعودی عرب نے پہلا سکیورٹی آپریشن مرکز سنہ 2014ء میں مکہ مکرمہ ریجن میں قائم کیا تھا۔ دوسرا مرکز سنہ 2020ء میں ریاض میں، جبکہ تیسرا مرکز سنہ 2022ء میں مشرقی ریجن میں شروع کیا گیا۔ گذشتہ برس مدینہ منورہ میں بھی ایک سکیورٹی آپریشن مرکز کا افتتاح کیا گیا۔ اسی طرح جنوب مغربی سعودی عرب میں الباحہ ریجن کے مرکز کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔
یہ قومی آپریشن مرکز مختلف سکیورٹی شعبوں جن میں شہری دفاع، ٹریفک، روڈ سیفٹی اور سکیورٹی گشت شامل ہیں، کے لیے شکایات کو یکجا کرتا ہے تاکہ شہریوں، رہائشیوں اور زائرین کو خدمات کی فراہمی کو آسان بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ ایک یکجا نظام قائم کرکے، تنبیہات اور احکامات کو مختلف انتظامی سطحوں تک پہنچا کر، جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور ڈیٹا بیس کو یک جا کرکے قومی سطح پر 911 کا ایک یکجا ہنگامی نمبر فراہم کرتا ہے۔
وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق مکہ مکرمہ ریجن کے مرکز نے اپنے قیام سے اب تک تقریباً 112,920,302 کالیں، ریاض ریجن کے مرکز نے 70,866,244 کالیں، مشرقی ریجن کے مرکز نے 23,461,357 کالیں اور مدینہ منورہ کے مرکز نے 3,222,120 کالیں موصول کی ہیں، جس کے بعد ان مراکز کو موصول ہونے والی کل کالوں کی تعداد 210,470,023 تک پہنچ گئی ہے۔
قومی سکیورٹی آپریشن مرکز مملکت کے تمام علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کی نگرانی کرتا ہے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ سکیورٹی اور سرکاری اداروں کے ساتھ رابطہ قائم رکھتا ہے۔ اس مرکز کی ذمہ داریوں میں ریاض، مکہ مکرمہ اور مشرقی ریجن کے 911 مراکز کی نگرانی، مملکت میں سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنا، ہنگامی حالات میں احکامات جاری کرنا اور اگر کوئی واقعہ کسی ایک ریجن کی سکیورٹی صلاحیت سے باہر ہو یا ایک سے زائد علاقوں میں پیش آئے تو بحرانوں کا انتظام سنبھالنا شامل ہے۔
مرکز وزارت داخلہ کے سکیورٹی شعبوں کی کوششوں کو مربوط کرنے، مشترکہ آپریشن رومز کے ساتھ روزانہ رابطہ رکھنے، شکایات وصول کرکے متعلقہ اداروں تک پہنچانے، جغرافیائی معلوماتی نظام کے ذریعے سکیورٹی شعبوں کو انتظامی اور جغرافیائی معلومات فراہم کرنے اور اہم تنصیبات، غیر ملکی سفارتی مشنز اور رہائشی کمپاؤنڈز کی سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو تنبیہی معلومات پہنچانے کا فریضہ بھی سرانجام دیتا ہے۔
-
سعودی عرب کا مسلسل تیسرے سال سائبر سکیورٹی انڈیکس میں دنیا میں پہلے نمبر پراعزاز برقرار
اقوام متحدہ نے سعودی عرب کو ایک مثالی ماڈل قرار دیا
مشرق وسطی -
سعودی عرب کو PIF کے تعاون سے بڑے سیاحتی منصوبوں کے ثمرات حاصل ہونا شروع
سعودی وزیر سیاحت کے مطابق اس شعبے میں متوقع بحالی انتہائی تیز ہوگی
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں بحیرہ احمر اور خلیج عرب میں 1293 تاریخی مقامات کی دریافت
سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ بحیرہ احمر اور خلیج عرب کے ساحلوں ...
مشرق وسطی