لاہور میں بسنت فیسٹیول کا دھوم دار آغاز، ہر طرف بھنگڑے، بوکاٹا کی صدائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پنجاب کا صدر مقام اور تاریخی شہر لاہور ایک بار پھر بسنت کے جادو میں ڈوب گیا رات ٹھیک بارہ بجتے ہی تین روزہ بسنت فیسٹیول کا باقاعدہ آغاز ہوا اور شہر کے آسمان پر ستاروں کی جگہ رنگ برنگی پتنگوں نے ڈیرے ڈال لیے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے دہلی گیٹ کی چھت پر پتنگ اُڑا کر جشن بسنت کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی چھتوں پر قہقہے، ڈھول کی تھاپ اور بوکاٹا کے نعرے گونجنے لگے۔

لاہور کی فضا خوشی اور رنگوں سے بھر گئی۔ نوجوان چھتوں سے پتنگیں اُڑاتے رہے جبکہ اڑتی اور کٹتی پتنگوں کو دیکھنے کے لیے منچلے سڑکوں پر نکل آئے۔ شہر کی گلیاں اور سڑکیں پتنگوں سے سجی دکھائی دیں جبکہ مہنگائی کے باوجود پتنگ اور ڈور کی مانگ عروج پر رہی اور کئی علاقوں میں نایاب ہو گئی۔

بسنت ایک موسمی تہوار ہے جو سردیوں کو الوداع کہنے کے لیے منایا جاتا ہے، یہ فروری میں آتا ہے، جب موسم نہ زیادہ سرد ہوتا ہے نہ گرم بلکہ خوشگوار ہوتا ہے، پنجاب میں بسنت کی تقریبات 25 سال بعد بحال کی گئی ہیں، جو 6 فروری 2026 سے شروع ہو کر 8 فروری تک جاری رہیں گی۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے دہلی گیٹ کی چھت پر پتنگ اُڑا کر جشن بسنت کا افتتاح کیا،
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے دہلی گیٹ کی چھت پر پتنگ اُڑا کر جشن بسنت کا افتتاح کیا،

عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا، ہر عمر کے افراد تہوار کے رنگ میں رنگے نظر آئے، ہر چھت روشن تھی، موسیقی اور گیتوں کی گونج سنائی دیتی رہی، خوشی میں ڈوبے ہجوم نے شور مچایا، بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ اور آتش بازی بھی کی گئی۔

بسنت کی رونق میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں؛ ہاتھوں پر مہندی، رنگین ملبوسات اور ذائقہ دار پکوانوں کے ساتھ بہار کا شاندار استقبال کیا گیا کئی خواتین خود بھی پتنگ تھامے چھتوں پر موجود نظر آئیں۔

لوگوں نے رات گئے مزے مزے کے کھانوں کا اہتمام کیا، جن میں خاص طور پر باربی کیو اور سرد موسم کے لیے سبز چائے شامل تھی، لباس اتنے نفیس تھے جیسے عید ہو، گلے ملنا، ’’بو کاٹا‘‘ کے نعرے، رقص، ڈھول، ہارن، ترمپٹ، پتنگیں اور ڈور کی پُنیاں، سب شبِ بسنت کا لازمی حصہ تھے۔

کارکن 3 فروری 2026 کو لاہور میں بسنت کا تہوار منانے والی پتنگ کا ایک بڑا ماڈل نصب کر رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی)
کارکن 3 فروری 2026 کو لاہور میں بسنت کا تہوار منانے والی پتنگ کا ایک بڑا ماڈل نصب کر رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی)

بسنت نوجوانوں کے لئے ایک نیا تجربہ ہے، کیونکہ 2001 میں پابندی لگنے کے بعد پیدا ہونے والی نسل نے یہ تہوار پہلے نہیں دیکھا، والدین اپنے بچوں کو بسنت کی رونقوں کے قصے سناتے نظر آئے، ساتھ ہی اس بات پر افسوس بھی کرتے رہے کہ اُن کے دور میں پتنگ اور ڈور کہیں زیادہ سستی ہوتی تھی۔

یاد رہے حالیہ بسنت سوشل میڈیا کے دور میں منائی جا رہی ہے، واٹس ایپ، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز پر بسنت کا خوب چرچا ہے، 2000ء میں جب آخری بار بسنت منائی گئی تھی، اس وقت اینڈرائیڈ فون موجود نہیں تھے۔

اب لوگ پتنگوں اور ڈور کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں، بسنت کے پروگرامز اور دعوتیں سوشل میڈیا پر دی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ پتنگ اور ڈور کے آرڈرز فون پر بک ہو رہے ہیں، بسنت کی رات پتنگ اُڑانے، رقص اور کھانے پینے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جو شائقین میں مزید جوش پیدا کرتی رہیں گی۔

قریب پچیس سالوں بعد پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں ایک ایسی بسنت واپس آئی ہے جسے حکومتی ضابطوں، اجازت ناموں اور پابندیوں نے جکڑا ہوا ہے۔

لاہور میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننے اور حفاظتی راڈ لگانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ خلاف ورزی پر کئی علاقوں میں نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ بسنت کے دنوں میں حکومت کی طرف سے شہریوں کو مفت ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا اعلان تو کیا گیا، مگر شہریوں کے مطابق عملی طور پر یہ سہولت بہت محدود علاقوں میں ہے۔

حکومتِ پنجاب نے بسنت کی مشروط اجازت صرف لاہور میں چھ سے آٹھ فروری تک دی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ نے بغیر بار کوڈ ڈور اور پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اسی سلسلے میں پنجاب بھر میں تیس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ صرف مخصوص رجسٹرڈ افراد کو بار کوڈ والی پتنگیں اور ڈور تیار کرنے اور مخصوص مقامات پر فروخت کرنے کی اجازت ہے۔

پتنگوں پر کسی شخصیت، ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے یا تصویر لگانے پر بھی پابندی عائد ہے۔ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور پر مکمل پابندی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت پر سات سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں