اسرائیل اب رکنے کا ارادہ نہیں رکھتا

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

غزہ اور لبنان میں نئے سورج کے طلوع کی کوشش جاری ہے۔ لیکن اس بار طلوع آفتاب کا یہ خواب حزب اللہ اور حماس کے غلبے کے بغیر دیکھا جا رہا ہے۔ ان مزاحمتی تحریکوں کا ایران کے ساتھ جڑا ہونا دیکھیں یا نہ جڑا ہونا دیکھیں۔ جس زاویے سے بھی دیکھیں ایک نیا اور مختلف منظر سامنے آنے والا ہے۔

اس منظر نامے میں بین الاقوامی قوتیں، عرب ممالک، لبنان اور فلسطینی اتھارٹی کی سب کوششوں کا ہدف اور مقصد یہ تقاضا کرتا ہے کہ انسانی اور سیاسی نقصانات کو کم ترکیا جا ئے اور مزید تباہی کو روکا جا سکے۔ ویسے بھی مزید تباہی کی اب گنجائش ہی نظر نہیں آتی۔ پچھلے ایک سال میں بے نظیر تباہی غزہ میں جنگ کے ساتھ شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے۔

حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی موت اور حماس کی طاقت کی تباہی کے بعد، اسرائیل اور اس کے چھپے اور ظاہری حامی اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں دیکھتے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ سال کے شروع میں بحران سے متعلق بدانتظامی ہے۔ اسرائیل اب یرغمالیوں کے تبادلے پر بات چیت کرنے یا ان سمجھوتوں کو قبول کرنے کے لیے دباؤ میں نہیں ہے جن پر غزہ کی انتظامیہ کے ساتھ قاہرہ میں مذاکرات کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ پیرس کی طرف سے تجاویز اب متعلق نہیں رہیں کیونکہ کوئی بھی اسرائیل کو یہ حکم نہیں دے سکتا کہ وہ سرحدی راہداریوں کا انتظام کیسے کرے یا کس طرح نہ کرے۔ انہی راہداریوں میں فلاڈیلفی راہداری بھی ہے۔

حسن نصراللہ اورحزب اللہ کے ذمہ داروں میں سے زیادہ تر کی اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد، لبنان بھی ایک مختلف پوزیشن میں ہے۔ اسرائیل اب صرف قرارداد نمبر 1701 کے مطالبات پر مطمئن نہیں ہے، جس میں اسرائیلی تحمل کے بدلے راکٹ چلانا بند کرنا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت تھی۔

لبنان کی فوج اپنی سرحدوں کی حفاظت اور حزب اللہ کے عسکری کردار کو ختم کرنے کی پوری ذمہ داری لے سکتی ہے۔ اس کے بغیر اسرائیل اگلے موسم بہار تک اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا، جس کا مقصد لبنان میں ہر مزاحمتی جنگجو کا خاتمہ کرنا ہے۔ تاہم اسرائیل کا یہ ہدف پورے لبنان کی تباہی اور حزب اللہ کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ایک نئی لڑائی کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ امکانی طور پر تیسرے محاذ یعنی شام کے ساتھ ہوگی اور چوتھا محاذ ایران کا ہوگا۔ تاہم یہ اگلا محاذ اس کے بعد شروع ہوگا جب حماس کا خاتمہ کیا جا چکا ہوگا اور حزب اللہ کی جنگی صلاحیت کو زیادہ تر ختم کیا جا چکا ہوگا۔ اسرائیل کو خوف ہے کہ دوبارہ سے وہی خطرات سر اٹھا لیں گے اگر ایران کو ان کی پشت پناہی سے روکا نہ گیا اور عراق سے شام اور شام سے لبنان تک امداد پہنچنے کا سد باب نہ کیا گیا۔

اگرچہ یہ بات سرکاری طور پر اسرائیل نہیں کر رہا لیکن وہ کسی طرح شام میں ایرانی اثرات کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل نے شام میں گولان کی پہاڑیوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کیا ہے اور ساتھ ہی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ علاقے میں موجود بین الاقوامی فورسز وہاں سے نکلیں۔ تاکہ وہ اپنے آئندہ کے منصوبوں کو شام میں بھی پوری طرح عملی شکل دے سکے۔

تاہم شام کی کوشش یہ ہے کہ وہ حماس اور حزب اللہ کی اس لڑائی کا حصہ بننے سے ذرا دور رہے۔ تاکہ اسرائیل کو ایسا کوئی بہانہ نہ میسر آئے جس کے بعد وہ شام کو بھی حماس اور حزب اللہ کی طرح نشانہ بنانا شروع کر دے۔ نیتن یاہو کی حکومت کیونکہ اس بات کا پختہ ارادہ کیے ہوئے ہے کہ اس نے اپنے اردگرد موجود ایران کے تمام اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں حماس، حزب اللہ اور شام میں موجود ایرانی اڈے سب شامل ہیں۔

اپریل کے شروع میں دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کا حملہ اسی سلسلے کا واضح پیغام تھا کہ ایران کو لازماً اپنا بوریا بستر شام سے لپیٹنا ہو گا۔ اگر ایران پرامن طریقے سے چلا جاتا ہے تو اس میں شام کی حکومت کا فائدہ ہے کہ اس سے شام کو نقصان نہیں برداشت کرنا پڑے گا۔ بلاشبہ شام کو بھی اس وقت ایران کی اس طرح ضرورت نہیں ہے جس طرح پہلے خانہ جنگی کے دوران ضرورت تھی۔ اب ایران شام کے لیے ایک بوجھ بن رہا ہے۔ بلکہ خطرے کا باعث بھی۔

بلاشبہ نیتن یاہو کی حکومت اور اسرائیلی فوج اندھا دھند انداز میں تمام اطراف میں بمباری و گولہ باری کر رہی ہے۔ لیکن حقیقیت یہ ہے کہ وہ ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق ایسا کر رہی ہے۔ اسرائیل منصوبہ بند طریقے سے علاقے میں موجود ایرانی خطرے کا محاصرہ کیے ہوئے اور اسے کمزور کر رہا ہے۔ یہ اندازہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایران پر اسی ہفتے بڑا حملہ کرنے جا رہا ہے۔ صرف یحییٰ سنوار پر جتنا بڑا حملہ ہوا تو اس سے بھی کہیں زیادہ بڑا حملہ۔ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو ایران کے لیے انتخاب کے دو راستے ہیں کہ اسرائیل کی شرائط قبول کر لے اور پاسداران انقلاب کور کی سرگرمیوں کو روکے ۔ دوسری صورت میں ایران اور خطے کے لیے اس سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال ہو گی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size