"پیا گھر جانا ہے تو پانچ لاکھ ریال دینا ہوں گے"
ولی کے ہاتھوں سعودی دوشیزہ کی مہنگی ترین بلیک میلنگ
خواتین کے لیے ولی اور سرپرست کا ہونا ایک نعمت سمجھا جاتا ہے لیکن بسا اوقات یہ نعمت، زحمت بھی بن جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ سعودی عرب کے شہر جدہ کی ایک دوشیزہ کے ساتھ پیش آیا جس کے والدین فوت ہو گئے اور سرپرست کی ذمہ داری اس کے چچا کے کندھوں پر عائد ہوئی۔ لڑکی بیس سال کی عمر کو پہنچی تو اس کے رشتے آنا شروع ہوئے لیکن چچا ہر ایک کو انکار کر دیتا۔ ایسا کرتے کرتے لڑکی کی عمر تیس سال ہو گئی اور اس کی کسی سے شادی نہ ہو سکی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک روز لڑکی جرات کرکے اپنے سرپرست "ہونہار" چچا سے پوچھ بیٹھی کہ وہ اس کی شادی سے انکاری کیوں ہے اور تمام رشتے کیوں ٹھکرا دیے ہیں؟ اس پر چچا نے دل کی بات زبان پر لائی اور کہا کہ آپ کی شادی اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ آپ ترکے میں ملنے والے نصف ملین ریال میرے حوالے کر دیں۔
چچا کے منہ سے یہ بات سن کر لڑکی کچھ دیر تو سکتے میں آ گئی، تاہم اس نے اپنے چچا کو یقین دلایا کہ وہ اس بارے میں غور کرے گی۔ اس نے قانونی ماہرین کی خدمات لیں اور پوچھا کہ کیا مجھے ایسا کرنا چاہیے یا نہیں۔
قانونی ماہرین نے بھی کہا کہ آپ شادی کرنا چاہتی ہیں تو اس کی یہ قیمت ادا کر دیں۔ لڑکی چچا کی بلیک میلنگ کا شکار ہو گئی اور اس نے شادی کے لیے نصف ملین ریال کی رقم چچا کے حوالے کر دی۔
-
ایک رضاعی ماں کا دودھ پینے والے سعودی جوڑے میں طلاق
دونوں میں 25 سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے سات بچے ہیں
مشرق وسطی -
شادی کے لیے اسد کے 15 حامیوں کا 'سر حق مہر' لوں گی
عقد ثانی کے لیے بزرگ شامی بیوہ 'ام الشہداء' کی انوکھی شرط
ایڈیٹر کی پسند -
لبنانی عاشق کی ائرپورٹ پر محبوبہ کو شادی کی پیشکش
رشتہ مانگنے کے منفرد طریقے سے مسافر بھی محظوظ ہوئے
بين الاقوامى -
سعودی عرب میں شادی سے پہلے ذہنی مطابقت کا ٹیسٹ
'کفاء ٹیسٹ' کامیاب ازدواجی زندگی کی ضرورت بن رہا ہے
بين الاقوامى -
سعودی عرب :شادی کا تربیتی پروگرام متعارف کرانے کا اعلان
سعودی حکومت نے مملکت میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنے کے لیے شادی کا ایک ...
ایڈیٹر کی پسند -
"میری شب عروسی اندھیر ہونے سے بچائیں"
شادی کی رات سعودی دولہا کی محکمہ شہری دفاع کو کال
ایڈیٹر کی پسند