سعودی وزارت ثقافت نے سعودی عرب کے شاہی کالج برائے فنون لطیفہ کے ساتھ مل کر ایسی تعلیم و ترقی کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے ریاض یونیورسٹی میں فن کے فروغ کے لیے مل کر کام کیا جائے۔ تاکہ مقامی فنکاروں کو ابھارا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر ثقافتی تبادلوں میں اضافہ کیا جا سکے۔
اس شراکت داری کے تحت رائل کالج آف آرٹ اور 'آر یو اے' مل کر انڈر گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ نصاب اور ڈگریز کا اہتمام کریں گے۔ جن کے تحت آرکیٹیکچر سے متعلق فاؤنڈیشن پروگرامز اور اربن ڈیزائننگ کے پروگرام بھی شامل ہوں گے۔ وزارت ثقافت نے اس امر کا اعلان 'العربیہ' کے ذریعے کیا ہے۔
ان پروگراموں کا مقصد سعودی ورثے اور نئی اختراعات کو باہم جوڑنا ہے اور سعودی طلبہ کو تیار کرنا ہے کہ وہ مملکت میں ایسا تخلیقی ماحول پیدا کر سکیں جو مقامی ثقافت و سعودی شناخت کو دنیا بھر میں فروغ دینے کا باعث بنے۔
خیال رہے 1837 میں لندن میں قائم کیے گئے رائل کالج آف آرٹ کو دنیا میں فنون لطیفہ کے اعلیٰ ترین کالجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس نے 11 بار مسلسل سالانہ بنیادوں پر دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔
یہ برطانیہ کا سب سے بڑا ڈیزائننگ انسٹیٹیوشن اور تحقیقی ادارہ بھی ہے۔ 'آر سی اے' کی یہ شراکت داری ریاض یونیورسٹی کے شعبہ آرٹس کی بین الاقوامی سطح تک وسعت کا ذریعہ بنے گی۔ جو پہلے ہی کئی عالمی اداروں کے ساتھ مل کر ڈیزائنز کے شعبے کی تعلیم کے لیے اشتراک کر چکا ہے اور اپنے ہاں ثقافتی تعلیم کو وسعت دے رہا ہے۔
دسمبر 2025 میں ریاض یونیورسٹی آف آرٹس نے کالج آف فلم اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سکول آف سنیمیٹک آرٹس کے درمیان شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔ نیز یونیورسٹی آف لندن ، کالج آف دی پرفارمنگ آرٹس اور دیگر کالجوں کے ساتھ شراکت داری کا بھی اعلان کیا گیا۔
-
سعودی مفتی اعظم نے علماء کونسل کے اراکین کو فتاویٰ کی ذمے داریاں تفویض کر دی
سعودی عرب کے مفتیِ اعظم، چیئرمین سینئر علماء کونسل اور جنرل پریذیڈنسی برائے علمی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب: ثقافتی فنڈ کی سرپرستی میں 500 شیفس کی گریجویشن مکمل
سعودی عرب میں ثقافتی فنڈ کی سرپرستی میں 500 مرد و خواتین شیفس نے ’’کلنری آرٹس ...
ایڈیٹر کی پسند -
ریاض میں سعودی ترکی انویسٹمنٹ فورم کی سرگرمیوں کا آج آغاز
سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان سربراہ ملاقات ریاض میں ہو گی
مشرق وسطی