پاکستان کے ذریعے ہمیں اپنی تجویز پر امریکی موقف موصول ہوا ہے : تہران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حالیہ دنوں میں امریکی دھمکیوں میں اضافے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ جنگ کی طرف لوٹنے کے امکان کے بیچ، ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات پاکستانی وساطت سے جاری ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر کے روز کہا "واشنگٹن کی طرف سے ہماری تجویز مسترد کیے جانے کے باوجود، ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی مواقف کا ایک مجموعہ موصول ہوا ہے"

۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذاکرات میں تہران کے مطالبات میں بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی اور مغربی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

گذشتہ فروری کے اواخر سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نقل و حرکت تقریباً مفلوج ہے۔ بقائی نے اعلان کیا کہ ان کا ملک اس تزویراتی اہمیت کے حامل راستے میں گزرنے کا ایک طریقہ کار وضع کرنے کے لیے سلطنت عمان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عمان کے ماہرین نے آبنائے کے بارے میں ایک طریقہ کار وضع کرنے کے لیے اجلاس کیا ہے۔

علاوہ ازیں بقائی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "امریکہ اور اسرائیل خطے کے لیے خطرہ ہیں"۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔

اس سے قبل متعدد ایرانی عہدے داروں نے اشارہ کیا تھا کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ہرمز سے منظم طریقے سے گزرنے کا طریقہ کار وضع کرنے پر قائم ہیں۔

یاد رہے کہ ایران کی حالیہ تجویز جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا تھا، اس میں تہران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز اور اثاثوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی تھی۔

اس میں یورینیم کی افزودگی کے ایران کے حق کو تسلیم کرنا بھی شامل تھا، قطع نظر اس کے کہ افزودگی کو چند سالوں کے لیے معطل کیا جائے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر لگتا ہے کہ ایرانی فریق نے لچک دکھائی ہے۔

آبنائے ہرمز
آبنائے ہرمز

دوسری طرف تہران نے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنے سے انکار کر دیا اور اس بات پر قائم رہا کہ ہرمز میں صورتحال اس نہج پر واپس نہیں جائے گی جیسی گذشتہ 28 فروری کو اس کے اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی جنگ سے پہلے تھی۔ اس نے اپنی سرزمین کو نشانہ بنانے والے حملوں کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔

اس کے برعکس واشنگٹن نے ایرانی سرزمین پر بم باری سے ہونے والے نقصانات کا کوئی بھی معاوضہ دینے سے انکار کر دیا اور ایران کے اندر سے 400 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے پر اصرار کیا۔ اس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کا صرف ایک سیٹ چلایا جائے۔

اس کے ساتھ ہی امریکہ نے بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز میں سے 25 فیصد سے زیادہ رہا کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں