وزیر خارجہ پاکستان دوحہ پہنچ گئے، وزیراعظم 15 ستمبر کو سربراہ کانفرنس کے لیے پہنچیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اتوار کے روز دوحہ پہنچے ہیں۔ تاکہ عرب و اسلامی ممالک کی سربراہ کانفرنس سے پہلے اس کی تیاری کے لیے دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ شامل ہو سکیں۔

یہ عرب اسلامی ملکوں کی سربراہ کانفرنس قطر پر حالیہ دنوں کیے گئے اسرائیلی حملوں کے بعد بلائی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اس سے پہلے بھی دوحہ پہنچ کر قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کر چکے ہیں۔ اب وہ سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دوبارہ قطر پہنچیں گے۔

اسرائیل کے قطر پر میزائل حملے کے نتیجے میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ کے جواں سال بیٹے سمیت 6 مختلف افراد جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ اسرائیل کا ہدف حماس کی اس قیادت کو نشانہ بنانا تھا جو امریکی صدر ٹرمپ کی غزہ میں جنگ بندی کے لیے نئی تجویز پر مثبت انداز میں غور کرنے کے لیے جمع ہوئی تھی۔

اسرائیلی ریاست نے غزہ جنگ کو رکوانے کے لیے بطور ثالث ملک سب سے زیادہ اہم اور طویل کردار ادا کرنے والے ملک قطر کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے دارالحکومت کو نشانہ بنایا۔ تاہم حماس قیادت کو اس موقع پر قتل کرنے میں ناکام رہا۔ البتہ پوری دنیا سے اسرائیل کی مذمت جاری ہے۔

پاکستان نے بھی قطر پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف 15 ستمبر کو عرب اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچیں گے۔ ان کے وفد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شامل ہوں گے جو پہلے ہی دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کو قطر میں پاکستانی سفیر نے خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر 'او آئی سی' کے اعلیٰ حکام اور قطری حکومت کے نمائندے بھی موجود تھے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے چند دن پہلے کہا تھا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور قطر پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ اسرائیل کی یہ جارحیت قطر اور پورے علاقے کی ریاستوں کے خلاف ہیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم پاکستان کا دورہ قطر خلیجی ریاست اور اس کے عوام کے ساتھ غیر معمولی یکجہتی کا باعث بنے گا اور پاکستان کی خیلیجی ریاستوں کے لیے کمٹمنٹ اور ان کے امن و سلامتی کے لیے وابستگی کا اظہار ہوگا۔

خیال رہے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ میں تقریباً 65000 فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہے۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں