کویتی شہریت کے قانون میں کیا نمایاں نئی ترامیم کی گئی ہیں؟
ملک کے سرکاری گزٹ کے مطابق ان ترامیم میں آرٹیکل 7 ، آرٹیکل 8 اور 13 کے پہلے پیراگراف کے متن کو تبدیل کیا گیا ہے۔
خلیجی ریاست کویت کی حکومت نے ریاست میں شہریت کے قانون میں 1959 ء کے شاہی فرمان نمبر 15 کی دفعات کے حوالے سے نئی ترامیم کی منظوری دی ہے۔کویتی شہریت قومیت کا قانون ریاست کویت میں نافذ العمل سب سے اہم قوانین میں سے ایک ہے جو شہریت کے مسائل کو ریگولیٹ کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک ہے۔ کویتی وزارت داخلہ نے 1959ء کے فرمان نمبر 15 کی کچھ شقوں میں ترمیم کے لیے پیش کردہ ایک مسودہ فرامین کی تیاری پر کام کیا ہے۔
ملک کے سرکاری گزٹ کے مطابق ترامیم میں 1959ء کے مذکورہ بالا شاہی فرمان نمبر 15 کے آرٹیکل 7 ، آرٹیکل 8 اور 13 کے پہلے پیراگراف کے متن کو تبدیل کرنا شامل ہے۔
اس طرح مسودے کے آرٹیکل 7 کے پہلے پیراگراف میں ایک ایسی شق شامل ہے جس میں کویتی شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکی کی کویتی بیوی کی وجہ سے اسے کویت کی شہرہت نہیں دی جا سکتی جیسا کہ موجودہ آرٹیکل میں بیان کیا گیا ہے۔ نئی ترمیم کے مطابق غیر ملکی کے کویتی شہریت کے حصول کے نتیجے میں اس کی بیوی کویتی شہریت کی حامل نہیں قرار پاتی، تاہم اس کے نابالغ بچوں کو ان کی بلوغت کی عمر مکمل ہونے تک کویتی شہری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی شہریت کے حوالے سے اصل شہریت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ان ترامیم میں یہ بھی شامل ہےکہ کسی غیر ملکی خاتون کی کویتی مرد سے شادی کا لازمی نتیجہ یہ نہیں ہے وہ شخص بھی کویتی شہری قرار پائے۔
دھوکہ دہی یا جعلسازی کے ذریعے یا جھوٹے بیانات کی بنیاد پرلی گئی کویتی شہریت حقائق سامنے آنے کے بعد ان لوگوں سے واپس لے لی جاتی ہے جنہوں نے دھوکہ دہی سے ایسا کیا ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں جن مقدمات کے تحت شہریت واپس لی جاتی ہے ان میں ایسے کیسز شامل ہیں جن میں غیرت کے نام پر کی گئی انتقامی کارروائی، امانت میں خیانت، اندرونی یا بیرونی ریاستی سلامتی کے جرم کے ارتکاب، خدا تعالیٰ ، کسی پیغمبر یا فرمانروا کی توہین کے ارتکاب پر بھی مرتکب سے کویتی شہریت واپس لینے کا قانون منظور کیا گیا ہے۔
کویتی شہریت حاصل کرنے کے دس سال کے اندر غیرت یا دیانت سے متعلق وجوہات کی بناء پر اس کی سرکاری ملازمت سے تادیبی طور پر برطرف کر دیا جائےگا۔ اس کے علاوہ ریاست کے اعلیٰ ترین مفاد یا اس کی بیرونی سلامتی کو مدنظر رکھا جائےگا۔
اگر مجاز حکام کی طرف سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ ایسے اصولوں کو فروغ دے رہا ہے جو ملک کے معاشی یا سماجی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں یا اس کا تعلق کسی غیر ملکی سیاسی ادارے سے ہے تو اس صورت میں کسی ایسے شخص سے کویتی شہریت واپس لی جا سکتی ہے۔
نئی ترامیم میں 1959 کے مذکورہ بالا شاہی فرمان نمبر 15 میں ایک نئے آرٹیکل نمبر 7 (A) کا اضافہ شامل ہے۔
وزیر داخلہ کے فیصلے سے کویتی ماں کے ہاں پیدا ہونے والے نابالغ کےبارے میں وزیر داخلہ کسی بھی نوعیت کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ اگر ماں اپنی رہائش کویت میں برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس صورت میں اس کے نابالغ بچے کو اس کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اگر اس کا غیر ملکی باپ کویت کی کسی جیل میں قید ہو یا اس کی ماں کو طلاق بائن ہوچکی ہو یا والد فوت ہوگیا ہو تو ایسے نابالغ کو اس کی ماں کے ساتھ کویت میں رہائش کی اجازت ہوگی۔
آرٹیکل 5 کی شق دو اور تین اور 1959 کے مذکورہ بالا شاہی فرمان نمبر 15 کی دفعہ 9 منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ہر وہ شق جو اس قانون کی دفعات سے متصادم ہو منسوخ کر دی گئی ہے۔
-
بھارتی وزیراعظم سرکاری دورے پر کویت پہنچ گئے
کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ خلیج کا 43 سال میں پہلا دورہ ہے
مشرق وسطی -
بھارت کویت کے ساتھ شراکت داری کو تزویراتی سطح تک بڑھانے کا خواہاں
مودی کا کویت کا دورہ 43 سالوں میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا اپنی نوعیت کا پہلا ...
مشرق وسطی -
کویت کے نائب وزیراعظم کی سرکاری دورے پر سعودی عرب آمد
کویت کے پہلے نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ الشیخ فہد یوسف الصباح سرکاری ...
مشرق وسطی